فوجی آپریشنز سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ،حکومت کی غیر سنجیدگی اور ہٹ دھرمی کی وجہ ..
تازہ ترین : 1

فوجی آپریشنز سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ،حکومت کی غیر سنجیدگی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سمیع الحق کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے ، سید منور حسن ، حکومت امریکی دباؤ میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتی اور مذاکرات کی بجائے بندوق کی نوک پر مسئلہ حل کرنے کی باتیں کرتی رہی ،مذاکرات کی راہ ہموار ہوتے ہی کوئی واقعہ ہوجانے سے پتہ چلتاہے دشمن قوتیں طالبان سے مذاکرات کو ہر قیمت پر روکنا چاہتی ہیں ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہاہے کہ فوجی آپریشنز سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکا بلکہ نئے مسائل جنم لیتے ہیں، نوازشریف بتائیں کہ وہ قوم کو اعتماد میں لینے کے نام پر کب تک قومی اعتماد کو مجروح کرتے رہیں گے ، پانچ ماہ قبل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام جماعتوں نے حکومت سے متفقہ مطالبہ کیا تھاکہ طالبان سے فوری مذاکرات کیے جائیں ، سابقہ حکومت کے دور میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں کی متفقہ قراردادوں میں بھی یہی مطالبہ کیا گیا تھاکہ ملک میں قیام امن کے لیے طالبان سے مذکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہے ، حکومت امریکی دباؤ میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتی اور مذاکرات کی بجائے بندوق کی نوک پر مسئلہ حل کرنے کی باتیں کرتی رہی ، شمالی وزیرستان جیٹ طیاروں سے بمباری ہورہی ہے اس کا فیصلہ کہاں اور کس نے کیاہے ؟۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری کارکنان کی پانچ روزہ تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔ سیدمنورحسن نے کہاکہ آئی ایس پی آر یہ تو بتاتی ہے کہ فلاں جگہ آپریشن میں اتنے دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کا قلع قمع کر دیا مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں پرامن شہریوں کی کتنی بستیاں خاک کا ڈھیر بنا دی گئیں ۔

معصوم بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کی کتنی لاشیں گریں ۔ انہوں نے کہاکہ آپریشنوں کا جتنا تلخ تجربہ پاکستان کو ہے ، شاید ہی دنیا کے کسی ملک کو ہو ۔ 1971 ء میں آپریشن ہی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا ۔ بلوچستان میں پانچواں ملٹری آپریشن جاری ہے مگر شورش پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ کراچی میں آپریشن کا خمیازہ قوم اب تک بھگت رہی ہے اور روزانہ شہر میں درجنوں لاشیں گرائی جاررہی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے بڑی سے بڑی جنگ کے بعد بھی مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی میز بچھانا پڑتی ہے اگر حکومت کچھ کرنا نہیں چاہتی تو اسے قوم کو فریب میں مبتلا نہیں رکھنا چاہیے ۔ حکمران تسلیم کریں کہ وہ امریکی حکم کے بغیر قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ طالبان سے مذاکرات کی راہ جب بھی ہموار ہوتی ہے ، دہشتگردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوجاتاہے جس سے صاف پتہ چلتاہے کہ امریکہ اور پاکستان دشمن قوتیں طالبان سے مذاکرات کو ہر قیمت پر روکنا اور سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہ دیا گیا اور مسائل کو طاقت سے حل کرنے کی گردان جاری رکھی گئی تو ملک میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ حکومت کی غیر سنجیدگی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مولانا سمیع الحق کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے اپنی آمد کے ساتھ ہی جس دھوم دھام سے دہشتگردی کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی باتیں کی تھیں اور آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی ، اس سے ظاہر ہوتاتھاکہ ملک میں قیام امن کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کرنا چاہتی ہے مگر شمالی وزیرستان میں بمباری اور فوجی کاروائیوں سے ایک بار پھر امن دشمن قوتوں کی سازشیں کامیاب ہو تی نظر آتی ہیں اور مذاکرات اور امن کے قیام کی کوششیں ناکام ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/01/2014 - 21:05:04

اپنی رائے کا اظہار کریں