جن کو طالبان کیساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ ملا ہے وہ اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں‘ سید ..
تازہ ترین : 1

جن کو طالبان کیساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ ملا ہے وہ اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں‘ سید منور حسن،اپنی ذمہ داری کا احساس کیا جائے اور بے اختیار لوگوں پر یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے ،وزیر اعظم وزیر داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیں ،واہگہ بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے اور دونوں ممالک میں بنکوں شاخیں کھولنے کے اقدامات امریکہ اور بھارت کی خوشنودی کیلئے ہیں‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19 جنوری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ جن کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ ملا ہے وہ اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں ،اپنی ذمہ داری کا احساس کیا جائے اور بے اختیار لوگوں پر یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے کہ وہ معصوم لوگوں کی جان سے کھیلنے والوں کو سمجھائیں ،وزیر اعظم وزیر داخلہ کی سربراہی میں مذاکرات کیلئے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دیں جس کو طالبان سے مذاکرات کیلئے مکمل اختیارات حاصل ہوں ، طالبان کی طرف سے مذاکرات کیلئے ایک بار پھر آمادگی کا اظہار خوش آئند ہے اب حکومت طالبان پر یہ الزام نہیں لگا سکتی کہ وہ مذاکرات کرنا نہیں چاہتے ۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ طالبان کے نام پر بھارتی امریکی اور اسرائیلی تخریب کار ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں لیکن حکومت اور سکیورٹی ادارے تمام تر ثبوتوں کے باوجود ان کا نام لینے سے شرماتے ہیں۔طالبان مساجد ،مدارس سمیت مذہبی عبادت گاہوں پرحملے نہیں کرسکتے اور نہ سکولوں کالجوں میں دھماکے کرکے معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیل سکتے ہیں ،تبلیغی مرکزوں،سابق امیر جماعت قاضی حسین احمداور مولانا فضل الرحمن پر حملے کرنے والے طالبان کیسے ہوسکتے ہیں ؟حکومت اپنی ناکامی اور نااہلی کو چھپانے کیلئے دہشت گردی اور تخریب کاری کے ہر واقعہ کے ڈانڈ ے طالبان سے ملا دیتی ہے ۔

میڈیا میں دہشت گردی کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے والوں سے کبھی کسی نے شناخت پوچھنے کی ضرورت محسو س نہیں کی ۔ حکومت نے قومی قیادت کی طرف سے متفقہ مطالبے کے باوجود طالبان سے مذاکرات کے مسئلے کوپانچ ماہ سے لٹکایا ہوا ہیدریں اثنا سید منورحسن نے بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے واہگہ بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے اور دونوں ممالک میں مرکزی بنکوں کو اپنی شاخیں کھولنے کے لیے لائسنس جاری کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدامات امریکہ اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ۔

بھارت کے ساتھ دیرینہ مسائل حل کرنے کے بجائے بھارت کو سر پر بٹھا یا جارہاہے ۔ ان اقدامات کا فائدہ صرف بھارت اٹھائے گا ۔ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال کر کشمیریوں کی قربانیوں پر پانی پھیردیا گیاہے ۔ بھارت کی طرف سے ہمارے حصے کے دریاؤں پر ناجائز ڈیم بنا نے اورپاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کے بھارتی منصوبے پر بھی چپ سادھ لی گئی ہے ۔

میاں نوازشریف کو صرف اپنا کاروبار اور تجارت عزیز ہے ، قومی مفادات کو قربان کیا جارہاہے۔ قومی احتجاج کے باوجود حکمران بھارت سے تجارت اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کیلئے تیار ہیں ۔ حکمران بھارت سے تجارت کیلئے پاکستان کی سا لمیت کو بھارتی تخریب کاروں کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں،تاجروں اور بینکاروں کے روپ میں روزانہ ”را“کے ایجنٹوں کے گروہ پاکستانی شہروں میں داخل ہوکراپنی سازشوں کا جال پھیلا دیں گے ۔

امریکہ و بھارت پاکستان کی تباہی و بربادی کیلئے اپنے مکروہ ایجنڈے کے آخری حصہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے جس دن بھارتیوں کو آزادانہ بارڈر کراسنگ کی اجازت دے دی وہ نظریہ پاکستان کی نفی اور بھارتی بالادستی کا پہلا دن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت امریکی سر پرستی میں پاکستان کے اندر ایسٹ انڈیا کمپنی والا کھیل کھیلنے جارہا ہے ۔بھار ت پاکستان کا ازلی و ابدی دشمن ہے اور امریکی ایجنڈے پرپاکستان میں انتشار اور انارکی پھیلانے کی راہ ہموار کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خالق اور نظریہ پاکستان کی محافظ ہونے کی دعویدار جماعت ، ہندو کی غلامی قبول کرکے نظریہ پاکستان کو دفن کرنے پر کمر بستہ ہوچکی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/01/2014 - 22:47:14

اپنی رائے کا اظہار کریں