طالبان کیخلاف فوری آپریشن شروع کر دینے کا مطالبہ کرنیوالے بتائیں کراچی اپریشن ..
تازہ ترین : 1

طالبان کیخلاف فوری آپریشن شروع کر دینے کا مطالبہ کرنیوالے بتائیں کراچی اپریشن سے کیانتائج سامنے آئے ہیں؟‘ سید منور حسن ،کراچی میں کئی ماہ سے آپریشن جاری ہے ،ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جاسکا،ٹارگٹ کلنگ روکنے والوں کی کلنگ ہورہی ہے ، آئی ایم ایف ایک ایسا پھندا ہے جو روز بروز تنگ ہوتا جارہاہے یہ ہماری معیشت اور زراعت کو موت کے گھاٹ اتار دے گا‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 جنوری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سیدمنورحسن نے کہاہے کہ کراچی میں کئی ماہ سے اپریشن جاری ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جاسکا،ٹارگٹ کلنگ روکنے والوں کی کلنگ ہورہی ہے ،ایک دن سکون سے گزرتاہے اگلے روز درجنوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتاہے لیکن قاتلوں کا سراغ نہیں ملتا ، جو مجرم پکڑے جاتے ہیں ان کا تعلق سیاسی جماعت سے بتایا جاتاہے لیکن مجرموں اور سیاسی جماعت کا نام لینے سے سب گھبراتے ہیں ، طالبان کے خلاف فوری اپریشن شروع کر دینے کا مطالبہ کرنے والے بتائیں کہ کراچی اپریشن سے کیانتائج سامنے آئے ہیں ، اپریشن ہی کے دوران اعلیٰ پولیس افسر کا قتل ہو جانا سوالیہ نشان ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ نمازجمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیدمنور حسن نے کہاکہ امریکی کانگرس کی طرف سے پاکستانی امداد کو شکیل آفریدی کی رہائی اور اس پر امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام واپس لینے سے مشروط کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے غداروں کو امریکی سرپرستی حاصل ہے ۔ جعلی پولیو مہم چلا کر امریکہ کے ناپاک عزائم پورے کرنے والے ڈاکٹر کی وجہ سے ملک میں پولیو مہم کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔

سیدمنورحسن نے کہاکہ امریکہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر تا جارہاہے ۔ ڈالروں کے عوض پاکستانی ویزوں میں امریکی اہلکاروں کے لیے پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ نااہل حکومتوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کے لیے پاکستان کو امریکہ اور آئی ایم ایف کے آگے گروی رکھ دیاہے ۔ آئی ایم ایف قرض کے بدلے ہر قسط سے پہلے اپنی شرائط منواتا ہے ۔

بجلی ، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتاہے ۔ بجلی کی قیمت میں موجودہ ایک روپیہ فی یونٹ اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ آئی ایم ایف ایک ایسا پھندا ہے جو روز بروز تنگ ہوتا جارہاہے یہ ہماری معیشت اور زراعت کو موت کے گھاٹ اتار دے گا ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک اس جوئے کو ہم اپنی گردن سے اتار نہیں دیتے ، اس وقت تک ہماری معیشت ترقی کر سکتی ہے نہ غربت ختم ہوسکتی ہے ۔

قرض پر سود کی اتنی بھاری قسطیں ادا کرنے کے لیے بھی اسی عطا ر کے لونڈے سے دوا لی جاتی ہے جس کے سبب ہماری معیشت بیمار پڑی ہے ۔ سیدمنورحسن نے کہاکہ دہشتگردی کا عفریت مخصوص علاقے سے نکل کر پورے ملک میں پھیلتا جا رہاہے ۔ گزشتہ رات پشاور میں بم دھماکے سے بیش بہا جانی نقصان ہوا ہے ۔ عبادتگاہوں اور مساجد میں دھماکے کر کے بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے یہ دشمن کے ایجنٹوں کی کاروائی ہے ۔

اس میں بھارت اور امریکہ کی ایجنسیاں ملوث ہوسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے خفیہ ادارے اور ایجنسیاں آخر کس مرض کی دوا ہیں وہ ان دھماکوں کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کو بے نقاب کیوں نہیں کر سکتیں ۔سیدمنورحسن نے کہاکہحکمرانوں کاپہلا فرض ہے کہ وہ عوام کو جان و مال کا تحفظ دیں لیکن حکمران لیپ ٹاپ تقسیم کرنے اور نوجوانوں کو سودی قرضوں کے جال میں پھنسانے میں لگے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف قوم کو بتائیں کہ وہ اس قدر عجلت میں نج کاری کا فیصلہ کیوں کررہے ہیں اگر وہ نج کاری کرناچاہتے ہیں تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس پر سیر حاصل بحث ہونی چاہیے اور ایک جائزہ کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے جو 1991 ء سے اب تک 23 سالوں میں ہونے والی نج کاری اور پرائیوٹائزکیے گئے اداروں کی مکمل رپورٹ قوم کے سامنے رکھے اور بتائے کہ ان اداروں کو بیچنے کی وجہ سے کتنے لوگ بے روزگار ہوئے اور حاصل ہونے والی آمدن کتنی ہوئی ہے اور کہاں خرچ کی گئی ہے ۔

سیدمنور حسن نے کہاکہ طالبان سے دوبارہ مذاکرات کی باتیں سامنے آنے کے بعد ملک میں دہشتگردی کی نئی لہرآ گئی ہے جس سے واضح اشارہ ملتاہے کہ مذاکرات مخالف قوتیں مذاکراتی عمل سبوتاژ کرنے کے لیے حرکت میں آ چکی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دوسری طرف وزیراعظم ہفتے عشرے بعد طالبان سے مذاکرات پر ایک بیان دے کر خاموش ہو جاتے ہیں ۔ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ عوام کے لیے پریشان کا باعث بناہواہے ۔ معصوم لوگ روزانہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے جبکہ حکمران سنجیدگی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

وقت اشاعت : 17/01/2014 - 20:56:32

اپنی رائے کا اظہار کریں