2013میں نئے پاکستانی گلوکار اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے
تازہ ترین : 1

2013میں نئے پاکستانی گلوکار اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7جنوری 2014ء) 2013 میں جہاں پاکستان میں نئے گلوکار ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ’تعاون‘ سے موسیقی کی دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے وہیں سمکلی اور سیاسی موضوعات پر لکھے گئے نغموں نے اس سال بھی لوگوں کو متاثر کیا۔سال کی مشہور فلمیں ’وار‘، ’زندہ بھاگ‘،’میں ہوں شاہد آفریدی‘ اور ’چنبیلی‘ تھیں جن کے لیے عابدہ پروین اور راحت فتح علی خان جیسے کلاسیکی پس منظر والے گلوکاروں کے علاوہ علی عظمت، عاطف اسلم، عزیر جسوال اور ازل بینڈ نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔

فلموں کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس مشہور ڈراموں کے ’تھیم سانگز‘ کے لیے بھی طاہرہ سید، روشانے ظفر، حدیقہ کیانی اور فریحہ پرویز جیسی گلوکاراؤں نے گانے گائے اور انھیں کافی پذیرائی بھی ملی۔2013 کے آغاز پر ہی، گلوکار سجاد علی کا ریلیز ہونے والا گانا ’ہر ظلم تیرا یاد ہے‘ میوزک کی دنیا میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ملک کے سیاسی، معاشی اور سمکلی حالات پر طنزیہ گانے سامنے آئے جن میں بے غیرت بریگیڈ کا گانا ’تنک تنک تن دھا‘ اور علی گل پیر کا ’تاڑو ماڑو‘ زبانِ زدِ عام ہوئے۔

اس شعبے کی مشکلات بتاتے ہوئے گلوکار سجاد علی کا کہنا ہے کہ’پاکستان میں صرف دو میوزک چینلز ہیں اور وہ بھی پاکستان کے میوزک کو زیادہ وقت اور اہمیت نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ ڈاؤن لوڈ کی سہولت کی وجہ سے لوگ، گانا نہیں خریدتے۔اسی لیے کوئی موسیقار یا گلوکار کسی بھی گانے پر سرمایہ لگانے سے کتراتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/01/2014 - 13:43:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں