عالمی دنیا افغانستان میں قندوز کے سیکڑوں معصوم شہیدوں کی موت پر کیوں خاموش ہیں،رانا ..
تازہ ترین : 1

عالمی دنیا افغانستان میں قندوز کے سیکڑوں معصوم شہیدوں کی موت پر کیوں خاموش ہیں،رانا بشارت علی خان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 اپریل2018ء) عالمی تحریک انسانی حقوق برطانیہ کے پاکستانی نژاد صدر رانا بشارت علی خان نے قندوز افغانستان میں قرآن پاک کے درجنوں حفاظ اور علما کے امریکی حملے میں شہادتوں پر دنیا کی خاموشی کو انسانیت کے ساتھ بے رحمانہ مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوروپ میں کسی اتک معصوم شہری کے قتل پر موم بتیاں جلانے اور احتجاجی واک کرنے والوں کو افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی کے ایک چھوٹے سے گائوں دفتائی کے مدرسے دارلعلوم ہاشمیہ کے معصوم بچوں اور اساتذہ کے بے رحمانہ قتل عام ہونے والے مسلمان کیوں نظر نہیں آتی․ خود کو دنیا کاٹھانے دار سمجھنے والا امریکہ دنیا بھر میں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے اصل محرک ہی․ قندوز کے معصوم بچے بھی شام کے بچوں کی طرح یوروپی غفلت اور امریکی مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں․ پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی تحریک انسانی حقوق برطانیہ کے صدر رانا بشارت علی خان نے اقوام متحدہ، ریڈ کراس، ہلال احمر سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اداروں سے سوال کیا ہے کہ وہ قندوز کے معصوم بچوں کے قتل عام پر کیوں بے حس بیٹھے ہیں․ مدرسے میں دستار بندی کی تقریب کو طالبان اور القاعدہ کی تقریب کا نام دے کر قرآن حفظ کرنے والے بچوں اور مدرسے کے اساتذہ و علما کو ہٹلر کے انداز میں بمباری کا نشانہ بنانے والی امریکی افواج کی مذمت نہ کی گئی تو امریکہ کے بے لگام قاتل ہر ملک کے شہریوں کا قتل عام کرنا شروع کردیں گی․ رانا بشارت علی خان نے کہا کہ اقوام متحدہ، یوروپی یونین، اسلامی ممالک کی تنظیم قندوز کے شہیدوں کے لئے آواز بلند کریں اور افغانستان میں بد ترین ناکامی سے دوچار امریکی افواج کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کریں․ مسلمان ممالک اور مسلم حکمرانوں کے لئے بھی عمل کا وقت ہے اگر انہوں نے قندوز کے حفاظ قرآن کی شہادت پر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ نہ کروایا تو امریکی ڈرون ایک دن ان کے بچوں کو بھی مسلمان ہونے کے جرم میں نشانہ بنائیں گی․ امریکی افواج کی عام شہریوں اور مدارس کے بچوں پر وحشیانہ بمباری سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ ہر محاذ پر ناکام ہو چکا ہے امریکی پالیسیوں کی ناکامی نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہی․ خود کو مہذب کہلوانے والی یوروپ کی اقوام کے ضمیر کا امتحان ہے دنیا بھر کے مسلمان دیکھیں گے کہ اپنے ایک شہری کے قتل پرآسمان سر پر اٹھالینے والی قومیں قندوز کے معصوم اور کمسن بچوں کی شہادتوں پر کیا اقدامات کرتی ہیں․

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/04/2018 - 19:03:57

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :