ڈان لیکس تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن وزیراعظم ہاؤس نہیں ..
تازہ ترین : 1

ڈان لیکس تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن وزیراعظم ہاؤس نہیں وزارت داخلہ جاری کریگی ،چوہدری نثار علی خان

معاملے پر بھونچال پیدا کردیا گیا ، نان ایشو کو ایشو بنا کر پیش کیاجارہا ہے ،ڈان لیکس میں کسی شخص کو بچانے کی کوشش نہیں کی گئی ،کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائیگا،وفاقی وزیر داخلہ الطاف حسین اور ساتھی بھارت سے مدد طلب کرتے ہیں ، پاکستان میں سیاست کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،آصف زرداری کے ساتھیوں کی گمشدگی سے وفاق کا تعلق نہیں ٹویٹس کے ذریعہ اداروں کو ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کرنا چاہیے، ٹویٹس کسی بھی جانب سے ہوں جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہیں،گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب

ڈان لیکس تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن وزیراعظم ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2017ء) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے پر قائم تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے اس کا نوٹی فکیشن وزیراعظم ہاؤس نہیں بلکہ وزارت داخلہ جاری کرے گی ۔اس معاملے پر بھونچال پیدا کردیا گیا ہے اور نان ایشو کو ایشو بنا کر پیش کیاجارہا ہے ۔ڈان لیکس میں کسی شخص کو بچانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا ۔ٹویٹس کے ذریعہ اداروں کو ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کرنا چاہیے ۔ ٹویٹس کسی بھی جانب سے ہوں جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے ۔قومی دھارے میں وہ لوگ شامل ہوں گے جو ریاست اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں گے ۔الطاف حسین اور ان کے ساتھی بھارت سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ان کو پاکستان میں سیاست کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔

اگر وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں پھر دیکھا جائے گا ۔ آصف علی زرداری کے تین ساتھیوں کی گمشدگی سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں ۔اگر آصف علی زرداری کو معلوم ہے کہ ان کے ساتھیوں کو کسی نے لاپتہ کیا وہ مجھے آگاہ کریں میں ان کی مدد کروں گا ۔کراچی آپریشن کی رفتار میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی وفاق کی جانب سے آپریشن کی معاونت میں کوئی کمی آئی ہے ۔

شہر میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ،زمینوں پر قبضے اور چائنہ کٹنگ کے ساتھ کرپشن عروج پر ہے ۔ان جرائم کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے ۔وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ سول ،عسکری قیادت ،وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکہ اجلاس طلب کریں تاکہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حکمت عملی کا تعین کیا جاسکے ۔10سال سے سندھ میں ایک پارٹی حکومت کررہی ہے ۔

ان کی کارکردگی کے بارے میں عوام بخوبی جانتے ہیں ۔سندھ کو بھی متبادل سیاسی قیادت کی ضرورت ہے ۔ماضی میں طورخم سے 40سے 50ہزار افراد بغیر سفری دستاویزات کے نقل و حمل کرتے ہیں لیکن اب کوئی پاسپورٹ کے بغیر پاکستان کی سرحدی حدود میں داخل نہیں ہوسکتا ہے ۔تمام سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مربوط کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے اہداف کو مزید کامیابیوں کے ساتھ حاصل کیا جاسکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو گورنرہاؤس کراچی میں اپنے دو روزہ دورے کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مجھے آج مشورہ دیا گیا تھا کہ پریس کانفرنس ملتوی کردوں لیکن ڈان لیکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اگر میں پریس کانفرنس ملتوی کرتا تو اس سے اچھا پیغا م سامنے نہیں جاتا ۔انہوںنے کہا کہ ہماری کوششوں سے نادرا اور پاسپورٹ آفس کے نظام میں بہتری آرہی ہے ۔

ڈیڑھ سال میں 72نئے پاسپورٹ دفاتر قائم کیے ہیں ۔31مئی کے بعد ملک کا کوئی ایسا ضلع نہیں بچے گا جہاں پاسپورٹ آفس موجود نہ ہو ۔گزشتہ 70سال کے دوران ملک میں صرف 70پاسپورٹ آفس تھے مگر ہماری حکومت نے صرف سوا سال میں مزید 72پاسپورٹ آفس قائم کیے ہیں ۔نادرا اور پاسپورٹ کے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں ۔صوبائی حکومتوں کو خط بھیجا ہے کہ نادرا دفاتر کے قیام کے لیے اراضی مہیا کی جائے ۔

ہم چاہتے ہیں کہ گھر کے نزدیک لوگوں کے نادرا آفس کی سہولت موجود ہے ۔میں نے پاسپورٹ کی معیاد 10سال کردی ہے ۔کراچی میں دو میگا نادرا سینٹرز کے قیام کے بعد ایک بڑا سینٹر اگلے ماہ قائم ہوگا اور کراچی میں ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس کا افتتاح جلد کیا جائے گا ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی تقریباً ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہے ۔یہاں سے انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کام ہوتے تھے لیکن نیوی کی ماتحت ایجنسیوں اور پاکستان کوسٹ گارڈز کی وجہ سے ان جرائم میں بہت کمی آگئی ہے اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی کارکردگی میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ میں نے دورے کے دوران گزشتہ روز گورنر ہاؤس میں سیاسی لوگوں سے ملاقات کی جن میں ہماری پارٹی مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ (فنکشنل)کے رہنما بھی موجود تھے ۔ہم سیاسی دوستوں سے ملاقات کررہے ہیں اور میں جلد اگلے دورے میں سندھ کی دوسری ہم خیال سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کروں گا ۔ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں ہم خیال کا دوستوں کا ایک اتحاد قائم ہوسکے ۔

انہوںنے کہا کہ ایک پارٹی سندھ میں 10سال سے حکومت کام کررہی ہے ۔سندھ کے حالات کیا ہیں وہ عوام زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔اس جماعت کے علاوہ سندھ کے لوگوں کے پاس متبادل سیاسی قوت بھی ہونی چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ میں نے آج رینجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں بھی شرکت کی ۔اس پریڈ میں 800اہلکار پاس آؤٹ ہوئے ہیں ان کا تعلق ملک کے تمام اضلاع سے ہے ۔

یہ گلدستے کے مانند ہیں یہ آج ہی سے سندھ رینجرز میں شامل ہوجائیں گے ۔انہوںنے کہا کہ سندھ رینجرز کی ٹریننگ کا معیار پاک فوج کی ٹریننگ جیسا ہے اور ان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت فراہم کی گئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت سول آرمز فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ کررہی ہے ۔ہمیں کہاجاتا ہے کہ ہم رینجرز پر کیا خرچ کرتے ہیں ۔

میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں 2013میں رینجرز کا بجٹ 7ارب تھا جو اب بڑھا کر 12ارب روپے کردیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ 88ارب روپے کے پی کے ،بلوچستان ،پنجاب اور دیگر سویلین آرمز فورسز پر خرچ کیے جارہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہمارے دور حکومت سے پہلے طورخم بارڈر پر 40سے 50ہزار افراد بغیر کسی کاغذات کے آتے جاتے تھے لیکن بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے تحت اب کوئی بھی شخص پاسپورٹ کے بغیر پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتا ہے ۔

پاکستان ،ایران اور افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ نقل و حمل کے لیے مزید چار گیٹس تعمیر کرے گا ۔انہوںنے بتایا کہ آج سندھ رینجرز ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطح کا امن و امان کا اجلاس ہوا ہے جس میں تمام سویلین آرمز فورسز کے افسران شریک ہوئے ہیں ۔اس اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی ،سرحدوں کی حفاظت ،سکیورٹی اور خفیہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور بریفنگ دی گئی ہے اور تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید بہتر کریں تاکہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ کرسکیں اور جاری آپریشنز کو اہداف کے مطابق مکمل کیا جاسکے ۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آپریشن کی رفتار کم نہیں ہوئی ہے ۔آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے اور وفاق کی جانب سے آپریشن کی معاونت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ میں اسلام آباد جاکر وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ آئندہ دورہ کراچی میں سیاسی ،عسکری ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کریں جس میں کراچی آپریشن کی مجموعی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکے اور کراچی آپریشن کی مزید حکمت عملی طے کی جائے تاکہ اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے ۔

انہوںنے کہا کہ آج سے تین سال قبل اس شہر کو ایک شخص نے یرغمال بنایا ہوا تھا ۔کبھی شہر بند کرادیتا تھا۔کبھی شہر میں آگ لگوادیتا تھا ۔کبھی بھتہ طلب کرتا تھا ۔شہر کے لوگ اس کے ہاتھوں یرغمال تھے لیکن آج تبدیلی آچکی ہے اور شہر میں امن قائم ہوچکا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے ۔زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں ۔

کرپشن عروج پر ہے اور چائنہ کٹنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن)کا نہیں بلکہ وفاق کا ایجنڈا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر کو محفوظ بنایا جائے گا ۔انہوںنے کہا کہ وفاق،صوبائی حکومتیں اور سکیورٹی ادارے مل کر کراچی کو امن کاگہوارہ بنائیں گے ۔ملک بھعر کے عوام کراچی آپریشن کو بھرپور سپورٹ کرتے ہیں ۔ہم کراچی آپریشن میں سکیورٹی اداروں کی قربانیوں پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔

ان سے سوال کیا گیا کہ آصف علی زرداری کے تین ساتھی لاپتہ ہیں ۔انہوںنے کہا کہ آصف زرداری کے تین ساتھی سندھ سے لاپتہ ہوئے ہیں ۔امن و امان کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے ۔اگر کوئی مجھ پر الزام لگارہا ہے تو میں واضح کرتا ہوں کہ میں اس طرز کی سیاست نہیں کرتا ۔میں نے سنا ہے کہ زرداری صاحب نے یہ بیان دیا ہے کہ ان تین افراد کو کس نے لاپتہ کروایا ہے ۔

چوہدری نثار علی خان نے آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجھے بتائیں اس میں کون ملوث ہے میں ان کی بھرپور مدد کروں گا ۔انہوںنے کہا کہ کوئی بھی شخص اگر کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے لاپتہ کرنے کی بجائے عدالتوںمیں پیش کرنا چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ قومی دھارے میں وہی لوگ شریک ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں ۔

بلوچستان میں جولوگ ریاست اور آئین کو تسلیم کرکے قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔الطاف حسین اور ان کے ساتھی پاکستان کو نہیں مانتے اور بھارت سے مدد طلب کرتے ہیں انہیں کس طرح قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔پہلے وہ پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں پھر دیکھا جائے گا ۔انہوںنے کہا کہ الطاف حسین اور ان کے ساتھی پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اس لیے ان کو یہاں سیاست کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔

ڈان لیکس کے معاملے پر انہوںنے کہا کہ اگر ادارے ایک دوسرے کو ٹویٹس کے ذریعہ مخاطب کریں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ ٹویٹس کسی بھی جانب سے ہو وہ جمہوریت اور انصاف کے لیے زہر قاتل ہے ۔اداروں میں باہمی روابط ہونے چاہئیں ۔انہوںنے کہا کہ جب میں اجلاس سے باہر آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ڈان لیکس کی تحقیقات پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہوا ہے جس کے بعد کوئی بھونچال آگیا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ میں اس بارے میں میڈیا کو وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ کراچی کے دورے سے قبل میں ڈان لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے رپورٹ وزیراعظم کے حوالے کی تھی اور انہوں نے مجھے کہا تھا کہ ڈان لیکس کے معاملے پر قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر مکمل عملدرآمد ہوگا ۔انہوںکہا کہ ڈان لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد پر نوٹی فکیشن جاری کرنا وزیراعظم ہاؤس کا نہیں بلکہ وزارت داخلہ کا کام ہے اور یہ نوٹی فکیشن وزارت داخلہ ہی جاری کرے گی ۔

انہوںنے کہا کہ آج وزیراعظم ہاؤس سے جو مراسلہ جاری کیا گیا ہے وہ ہمیں بھیجا جائے گا ۔وزیراعظم ہاؤس سے جو مراسلہ جاری کیا گیا ہے کہ وہ نوٹی فکیشن نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ واضح کیا کہ ڈان لیکس کے معاملے میں کسی شخص کو نہ بچایا جائے گا اور نہ بچانے کی کوشش کی جائے گی ۔تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کے عین مطابق وزارت داخلہ نوٹی فکیشن جاری کرے گی ۔

انہوںنے کہا کہ میں اسلام آباد میں جارہا ہوں وہاں جاکر معاملات کا جائزہ لوں گا پھر اس پر مزید بات کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہندوستان کے بارے میں میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔میں 1998میںجب وزیرتھا تو اس وقت بھی میں نے ہندوستان کی ایک شخصیت سے ملنے سے انکار کردیا تھا ۔انہوںنے کہا کہ میں بھارت کے خلاف سخت موقف لینے پر ہمیشہ قائم رہوں گا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ وزیراعظم کی اگر کسی ہندوستانی کی ملاقات ہوئی ہے تو اس سے ان کی حب الوطنی متاثر نہیں ہوئی ہے وہ محب وطن ہیں ۔انہوںنے کہا کہ سیاست کرنا ہر جماعت کا حق ہے ۔ہم سندھ سمیت ملک بھر میں سیاست کرتے رہیں گے ۔انتخابات میں سوا سال رہ گیا ہے ۔ہر جماعت کا عوامی رابطہ مہم شروع کرنا ان کا حق ہے ۔اسے کوئی روک نہیں سکتا ۔

انہوںنے کہا کہ ہم کسی جماعت کے خلاف سازش نہیں کررہے ہیں اور آئندہ الیکشن ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لڑیں گے ۔انہوںنے کہا کہ کسی بھی زیر حراست شخص کا انٹرویو ٹی وی پر چلانا یا شائع کرنا غیر قانونی عمل ہے ۔انہوںنے کہا کہ ڈان لیکس کی صورت حال پر ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔ہم تمام معاملات اتفاق رائے سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ٹویٹس سے معاملات حل نہیں ہوتے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 29/04/2017 - 19:57:41

اس خبر پر آپ کی رائے‎