ماہی گیری کے دوران بھارت میں پکڑے جانے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو ماہانہ 10 ..
تازہ ترین : 1

ماہی گیری کے دوران بھارت میں پکڑے جانے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو ماہانہ 10 ہزار روپے امداد دینے کی سمری منظور ہو چکی ہے ، صوبائی وزیر ماہی گیری

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2017ء)ماہی گیری کے دوران بھارت میں پکڑے جانے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو ماہانہ 10 ہزار روپے امداد دینے کی سمری منظور ہو چکی ہے ۔ جلد اس کا اعلان کیا جائے گا ۔ یہ بات صوبائی وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ ماہی گیری کے وقفہ سوال کے دوران کہی ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی نصرت بانو سحر عباسی کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات درست ہے کہ 1999 ء سے شارک مچھلیوں کی تعداد میں 81 فیصد کمی آئی ہے اور دن بدن اس میں کمی ہو رہی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ شارک نسل میں کمی کی مختلف وجوہات ہیں ۔ جس میں سب سے اہم سبب یہ ہے کہ اس کا شکار کیا جاتا ہے، سمندر کی آلودگی اور دیگر اسباب شارک مچھلی کے بچوں کی تعداد کو کم کرتے ہیں ۔ نصرت سحر عباسی کے ایک اور سوال کے جواب میں محمد علی ملکانی نے کہا کہ عام طور پر بدین ٹنڈو باگو ، پنگریو اور تلہار میں مچھلیوں کی فارمنگ میں کمی نہیں ہوئی ہے ۔

انہوں نے 2015-16 تک کے اعدادو شمار پیش کیے اور کہا کہ بدین میں 2014 ء میں 114 ، 2015 میں 119 اور 2016 ء میں 127 مچھلی فارم تھے ۔ ٹنڈو باگو میں بالترتیب 120 ، 127 اور 129 ، تلہار میں بالترتیب 38 ، 45 اور 49 ہیں ۔ کل تعداد بالترتیب 275، 291 او ر305 ہے ۔ نصرت بانو سحر عباسی کے اس سوال پر کہ ماہی گیروں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کیا اقدام کر رہی ہے اور ان کے صحت و تحفظ کے لیے کیا کیا جا رہا ہے ۔

صوبائی وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی نے کہا کہ کشتیوں کے اندر صحت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے ۔ بہرحال سندھ میں ماہی گیروں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمارا محکمہ مختلف اقدام کر رہا ہے ، جس کے تحت تمام سرکاری پانیوں میں لیز کا نظام ختم کیا گیا ہے اور لائسنس دینے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے ۔ منچھر جھیل ، کینجھر جھیل اور زیرو پوائنٹ بدین میں ماہی گیروں کے لیے ماڈل گاؤں کی تعمیر جاری ہے ۔

کوٹری ڈاؤن اسٹریم کے پاس مراد شاہ میاں اور رائیلو میاں میں ماہی گیروں کی کالونیاں تعمیر کی جا رہی ہیں ۔ ماہی گیریوں کو کشتیاں ، جال ، انجن ، مخصوص برف کے ڈبے ، سائیکلیں ، پلاسٹک کے کریٹ اور حفاظتی جیکٹس فراہم کی جا رہی ہیں ۔ جیکٹس مفت دی جا رہی ہیں ۔ آر او پلانٹس اور جیٹیوں کی تعمیر کی ہے ۔ مختلف ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی اور شکار کی کوالٹی کی تعمیر دی جا رہی ہے ۔

ماہی گیروں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ خیرالنساء مغل کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ درست نہیں ہے کہ 2012 سے 2013 کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف فشریز سندھ حیدر آباد کی جھیلوں کی بحالی اور کارکردگی کے مطالعہ کے لیے کوئی اسکیم مختص کی گئی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے حاجی شفیع جاموٹ کے سوال کے جواب میں کہا کہ صوبے میں کشتیاں ابتدائی طور پر پاکستان مرچنٹ شپنگ آرڈی ننس 2001 کے تحت مرکنٹائل میرین کی جانب سے داخل کی جاتی ہیں ۔

ہر کشتی جس کا تعلق سندھ یا بلوچستان سے ہو ، اس کو پرنسپل آفس مرکنٹائل میرین ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ ( پی او ایم ایم ڈی ) مذکورہ بالا آرڈی ننس کے مطابق داخلے کا سرٹیفکٹ جاری کرتا ہے ۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر کشتیاں ان قواعد کو پورا نہیں کرتی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ اپنے حدود کے پانیوں میں شکار کرنے والی کشتیوں کو صرف اجازت نامے اور لائسنس جاری کرتی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 28/04/2017 - 23:40:11

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :