گدھے کی کھالوں کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے
تازہ ترین : 1

گدھے کی کھالوں کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے

کھالیں لاہور سے کراچی بذریعہ ٹرین بھیجی گئیں جو 3گوداموں میں رکھی گئیں، کراچی اور لاہور کے کئی گروہ اس مکروہ دھندے میں ملوث

گدھے کی کھالوں کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2017ء) گدھوں کی تقریبا 5 ہزار کھالیں پکڑے جانے کے کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے، کھالیں لاہور سے کراچی بذریعہ ٹرین بھیجی گئیں، 3 گوداموں میں رکھی گئیں، کراچی اور لاہور کے کئی گروہ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔تفصیلات کے مطابق گدھوں کی کھالیں پکڑے جانے کے کیس میں تحقیقات جاری ہیں جس میں کئی پیش رفت سامنے آئی ہیں، تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ لاہور سے کراچی کھالیں ٹرین میں کارگو کے نام پر بک کراکر بھیجی گئیں۔

یہ کھالیں کراچی پہنچا کر شہر قائد کے تین گوداموں میں رکھی گئیں جو کہ گلستان جوہر، کورنگی گودام چورنگی اور ماڑی پوری میں واقع ہیں۔لاہور اور گوجرانوالہ کی چمڑا منڈی گدھے کی کھالوں کی بڑی منڈیاں ہیں، یہاں گدھے کی کھالوں کو گائے بھینسوں کی کھال کے ساتھ پروسیسنگ کرکے برآمد کرنے کے لیے کراچی بھیجا جاتا ہے تاکہ انہیں چین بھیجا جاسکے۔

یہ کھالیں کراچی پورٹ سے کنٹینر کے ذریعے گائے یا بھینس کی کھالیں ظاہر کرکے چین ایکسپورٹ کی جانی تھیں تاہم انہیں پورٹ پر پہنچنے سے قبل ہی پکڑ لیا گیا۔اطلاعات ہیں کہ اس کام میں ملوث گروہ نے کسٹم حکام کے افسران کو لاکھوں روپے رشوت دے رکھی ہے جو ان کھالوں کے کنٹینر پہلے بھی کلیئر کرتے رہے ہیں۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چین میں ڈیمانڈ بڑھنے کے سبب ان کھالوں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور اس وقت ایک کھال کے عوض چین پاکستانی روپوں میں تقریبا 30 ہزار روپے ادا کررہا ہے یعنی دو روز قبل پکڑی گئی 5 ہزار کھالوں کی قیمت کروڑوں روپے میں ہے۔

پانچ ہزار سے زائد گدھے کی کھالوں کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ ان گدھوں کا گوشت کہاں گیا حکام تاحال اس بات کا کوئی سراغ نہ لگاسکے کہ یہ گدھے کہاں کاٹے گئی ان کا گوشت کہاں فروخت ہوا اور کن افراد کو فروخت کیا گیا اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا، کچھ عرصے قبل بھی لاہور میں محض کھالوں کے لیے گدھے چوری کرکے اور ذبح کرکے چھوڑ دیے گئے تھے جن کی کھالیں غائب تھیں۔

اطلاعات ہیں کہ ابھی تو ایک گروہ پکڑا گیا ہے لیکن کیس میں جاری تحقیقات کے نتیجے میں لاہور اور کراچی کے مزید کئی گروہ کے سامنے آنے کا امکان ہے جو اس دھندے میں ملوث ہیں۔کسٹم قوانین کے تحت گدھے کی کھال ملک سے باہر بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن محض کھال کے حصول کے لیے اور چند اضافی روپوں کے عوض گدھے کا گوشت عوام کو کھلانے کے واقعات سامنے آنے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گدھوں کی کھالوں کی برآمدات پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو پولیس نے گلستان جوہر میں ایک گودام پر چھاپہ مار کر ساڑھے 4 ہزار سے زائد کھالوں کے ساتھ ایک چینی باشندے اور ایک خاتون سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کیا ہے تاہم گروہ کا سرغنہ اور دیگر ملزمان تاحال فرار ہیں جنہیں گرفتار کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ایک اور گودام سے مزید 350گدھے کی کھالیں برآمد کی گئی ہیں۔

چین میں گدھے کی کھالوں سے جیلاٹن نامی ایک جز بنایا جاتا جو چینی کی ہزاروں سال قبل روایتی اور مقبول ترین دوا ایجیا کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ دوا چینی باشندوں میں انتہائی مقبول ہے جو نیند لانے، ٹھنڈ سے بچا، طاقت اور دیگر امراض میں مفید ہے۔چین اس وقت گدھوں کی خریداری کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو دنیا بھر سے گدھوں کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہے، جب کہ نائیجر اور برکینا فاسو سمیت کئی ممالک چین کو گدھے فروخت کرنے پر پابندی بھی عائد کرچکے ہیں۔چین میں گدھے کی بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب خیبر پختون خوا حکومت نے چین کو گدھے ایکسپورٹ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے تاکہ صوبے کی آمدنی میں کروڑوں روپے کا اضافہ کیا جاسکے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 28/04/2017 - 23:30:30

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :