وفاقی حکومت اسٹیل ملز کی نجکاری کرنے اور 30 ہزار ملازمین کا روزگار داؤ پر لگانے ..
تازہ ترین : 1

وفاقی حکومت اسٹیل ملز کی نجکاری کرنے اور 30 ہزار ملازمین کا روزگار داؤ پر لگانے کے بجائے اس کی تجدید بحالی اور اس میں وسعت پیدا کرکے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے استعمال کرے،وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10 اپریل۔2015ء)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری کرنے اور 30- ہزار ملازمین کا روزگار داؤ پر لگانے کے بجائے اس کی ریشن فیڈریشن کے تعاون سے اسکی تجدید بحال اور اس میں وسعت پیدا کرکے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی نے ہمیشہ رشین فیڈریشن کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کا سب کا بڑا پروجیکٹ پاکستان اسٹیل ملز کو روس کے تعاون سے کراچی میں قائم کیا جس نے برملا ملک کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

وہ جمعہ کووزیراعلیٰ ہاوٴس کراچی میں ریشن فیڈریشن کے سفیر مسٹر الیکسی وائے ڈیوو قونصل جنرل کے وفد کے ساتھ ملاقات کررہے تھے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مانا کہ پاکستان اسٹیل مل کراچی کا انتظامی تعلق وفاق سے ہے لیکن ہمیں اس لئے زیادہ تشویش ہے کہ ایک تو وہ کراچی میں قائم ہے دوسرا یہ کہ 30ہزار لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت اس منصوبے کی نج کاری کرنا چاہتے ہیں، جن کی پی پی نے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ریشین ماہرین سے استفادہ حاصل کرکے اس کو اقتصادی طور پر فعال بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی پی کے رشیا کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور انہوں نے خود اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ساتھ 2011میں ماسکو اور دیگر صوبوں کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے نہ صرف ریشین قائدین سے ملاقاتیں کیں اورانہیں کراچی آنے کیلئے مدعو کیا بلکہ ان کے ساتھ کئی مفاہمتی یادداشت نامہ پر دستخط بھی کئے۔

انہوں نے کہا کہ 18- ویں آئینی ترامیم کے بعد اب پاکستان میں صوبے کسی بھی ملک کے ساتھ آزادانہ دوطرفہ تعلقات اور معیشت کے شعبہ میں کوئی بھی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے وسیع مواقعے موجود ہیں اور ریشین حکومت اور ان کے کاروباری حلقے ان سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں، جن کیلئے ہم ان کی ہر ممکن مدد کر سکتے ہیں۔اس موقعہ پر ریشین فیڈریشن کے سفیر نے کہا کہ وہ دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری لانے، تجارت کو فروغ دینے کے سلسلے میں ہی یہاں سندھ کے دورے پر آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سندھ کو اقتصادی لحاظ سے نمایاں اہمیت حاصل ہے اور ہم باہمی دلچسپی کے شعبوں کا سروے کرکے اس میں تعاون بڑھائیں گے۔

وقت اشاعت : 10/04/2015 - 22:14:50

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں