سرسید گورنمنٹ گرلز کالج کو یونیورسٹی بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے ،نثار ..
تازہ ترین : 1

سرسید گورنمنٹ گرلز کالج کو یونیورسٹی بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے ،نثار احمد کھوڑو ، سینئر صوبائی وزیر تعلیم

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10 اپریل۔2015ء)سرسید گورنمنٹ گرلز کالج میں آل پاکستان فی البدیہ گولڈ میڈل تقریری مقابلے کا شاندار انعقاد کیا گیا ، جس کی صدارت سینئر صوبائی وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کی۔ فائنل میں دس طالب علموں نے فی البدیہ تقریر یں کی ، جنہوں نے مقررہ وقت میں قرعہ انداز ی کے ذریعے چنے گئے عنوان پر روشنی ڈالی ۔ صوبائی وزیر تعلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرسید گرلز کالج کو یونیورسٹی بنانے کے لیے قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ، جس کے لیے صوبائی وزارت قانون سے مل کر ضروری قانون سازی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرسید کالج جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے وہ وقت دور نہیں جب جلد ہی یہ پاکستان کی ایک ممتاز خواتین یونیورسٹی بن جائے گی ۔نثار احمد نے کہا کہ کاپی کلچر کے خاتمے کے لیے طلبہ کا تعاون بہت ضروری ہے ، اس لیے کہ جب وہ نقل کرر ہے ہوتے ہیں تووہ خود بھی طالبعلم کی حق تلقی کر تے ہیں ۔ ڈائریکٹر کالجز پروفیسر ڈاکٹر ناصرانصار نے اس موقع پر کہا کہ سرسید گرلز کالج میں بہت جلد پوسٹ گریجویٹ کلاسز کا اجراء ہونے والا ہے ، جس کے لیے ایس این ای بھی منظور ہوچکی ہے، انہوں نے مقابلے کے انعقاد کو سراہا اور کالج کو ایک ماڈل کالج قرار دیا۔

آر ڈی کالجز پروفیسر انعام احمد نے کہا کہ تقریری مقابلوں کا انعقاد ایک قابل تحسین قدم ہے ،تمام مقررین نے اپنے عنوانات کو مدلل انداز میں پیش کیا ۔ کالج پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فرحت عظیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد سے طالبعلموں میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے، اس سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں ،ہمارے یہ طلبہ و طالبات آنے والے کل کی امیداور پاکستان کا روشن مسقبل ہیں۔

،کالج ہذا آئندہ بھی اسی طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا رہے گا، قبل ازیں سینئر وزیر تعلیم جب کالج میں تشریف لائے تو اسٹوڈنٹس کونسل اور طلبہ نے ان کا شایان شان استقبال کیا ۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کالج ہذا کے لیے اپنے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب کے آخر میں صوبائی وزیر تعلیم نے فی البدیہہ مقابلے میں اول آنے والے سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ کے مقرر ثعبان بیگ کو گولڈ میڈل پہنایا اور مصنفین میں سوینئر تقسیم کیے ۔

وقت اشاعت : 10/04/2015 - 20:50:07

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں