موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ، بھٹو کا کیس دوبارہ ..
تازہ ترین : 1

موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ، بھٹو کا کیس دوبارہ کھولنے کا مقصد کسی سے انتقام نہیں تاریخی ریلیف لینا ہے، آصف علی زرداری

تمام سیاسی جماعتوں میں گندے انڈے ہیں، پابندی لگانے یا جمہوریت کوختم کرنے کی بجائے گندے انڈوں کو نکالا جائے

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء ) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ۔ بھٹو کا کیس دوبارہ کھولنے کا مقصد کسی سے انتقام لینا نہیں بلکہ تاریخی ریلیف لینا ہے ۔ ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں گندے انڈے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے یا جمہوریت کوختم کرنے کی بجائے ان گندے انڈوں کو نکالا جائے ۔

بلاول بھٹو زرداری کی تربیت کر رہے ہیں ۔ ان کی جوانی اور سوچ کوپختہ کرنا ہے ۔ اس کے بعد انہیں میدان میں لائیں گے ۔ سکیورٹی خطرات اور دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سیاست میں بتدریج لائیں گے ۔ وہ جمعرات کو بلاول ہاوٴس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ان کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری ، پیپلز پارٹی کی سنئر نائب صدر شیری رحمان ، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، سابق وفاقی وزیر احمد مختار اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں سیاسی جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ ڈائیلاگ ، ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ ہی تمام سوالوں کا جواب ہے ۔ جمہوریتوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے بارے میں ہمیں تشویش ہے ۔

یہاں بھی ہم دوستی اور ڈائیلاگ کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ جب میں صدر تھا تو میں نے ایران کے رہنماوٴں اور دیگر ملکوں کے رہنماوٴں کے ساتھ خطے کے مسائل پر بات کی تھی ۔ تب مجھے نظر آ رہا تھا کہ طوفان آنے والا ہے ۔ ہمیں دوستی اور بھائی چارے سے اس طوفان کا مقابلہ کرنا ہے ۔ مسلمان ملکوں میں جو رنجشیں ہیں ، وہ دور ہو جائیں ۔ شام کے مسئلے پر ہم نے ووٹ نہیں دیا تھا ۔

اقوام متحدہ میں بھی ہم نے یہی بات کہی تھی کہ ڈائیلاگ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور سرحدیں انسانوں کے لیے ہوتی ہیں ۔ اگر انسان نہ رہیں یا ان کے لیے بھوک اور مسائل ہوں اور انسان بھٹکتے رہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن ، سعودی عرب اور دیگر ملکوں میں 30 لاکھ پانی کام کرتے ہیں ۔ ہم اس خطے کے معاملات سے دور نہیں رہ سکتے ۔

ہمیں ان میں ملوث ہونا پڑے گا ۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان ممالک میں پیپلز پارٹی کے وفود بھیجے جائیں اور ہم کوشش کریں گے کہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس دوبارہ چلایا جائے اور اس حوالے سے صدر اور وزیر اعظم کو خط لکھا جائے گا ۔

ہم کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ شہید بھٹو اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ظلم ہو چکا ہے ۔ اس ظلم پر معافی مانگی جائے ۔ اس سوال پر کہ ایم کیو ایم کے جرائم پیشہ عناصر گرفتا رہوئے ہیں اور آپ پھر بھی ان کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے بغیر نہیں چل سکتی ؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی سوچ رکھنے والے جرائم نہیں کرتے ۔

ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی گندے انڈے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں اصلاحات ہونی چاہئیں اور یہ گندے انڈے نکال دیئے جائیں ۔ ہماری پارٹی میں بھی شہید بھٹو سے لے کر اب تک گندے انڈے چلے آ رہے ہیں ۔ لیکن کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے یا جمہوریت کو ختم کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں سے گندے انڈے نکالے جائیں ۔ ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے ۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کانفرنس بلانے کا بندوبست کیا تھا لیکن ہماری حکومت چلی گئی تھی ۔ بعد ازاں یہ کانفرنس کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی لیکن اس کی صدارت میاں محمد نواز شریف نے کی تھی ۔ اس وقت بہت نازک موقع ہے ۔ حکومت اسلامی سربراہ کانفرنس ضرور بلائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے ۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ سب باتیں نہیں بتائی جا سکتیں ۔ میں صدر مملکت رہا ہوں اور میں نے حلف لیا تھا ۔ یہ حلف آج بھی ہے اور قبر تک رہے گا ۔ میرے پاس جو معلومات ہیں ، وہ میرے پاس ہی رہیں گی ۔ میرے ساتھ وہ باتیں شیئر کی جا سکتی ہیں ۔ ہم ذمہ دار لوگ ہیں ۔ افغانستان کے معاملے پر ڈائیلاگ ہوا ۔ سعودی عرب میں ملاقاتیں ہوتی تھیں ۔

ہم تاریخ کے بہت سے واقعات کے شاہد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ صورت حال میں اپنا کردار ادا کروں گا ۔ پہلے ہم اسلامی ممالک میں وفود بھیجیں گے اور ایک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جو کردار میں ادا کرسکتا ہوں ، وہ بھی کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف مسلمانوں کی بات نہیں کرتے ۔ انسان ذات کی بات کرتے ہیں اور ہر انسانی مسئلے پر بات کرتے ہیں ۔

کسی بھی انسان کی جان نہیں جانی چاہئے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ پہلے ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ لگتا تھا اور اب ایک زرداری ، سب سے یاری کا نعرہ لگتا ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نوڈیرو میں کہا تھا کہ ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ مغرور نعرہ ہے ۔ ایسے نعرے نہیں لگنے چاہئیں ۔ کچھ دن پہلے میں کراچی میں پٹھانوں کے علاقے میں گیا تھا ۔

پٹھان کو صرف دوستی سے منایا جا سکتا ہے ۔ بھاری پن سے نہیں اور آج تو بچے بھی پیار سے بات مانتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے مجھے سے پوچھا تھا کہ یہ ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ لگ رہا ہے تو میں نے کہا تھا کہ ایک زرداری ، سب سے یاری کا نعرہ لگے گا اور اسی یاری کی وجہ سے ہم نے سینیٹ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بنائے ۔ اتحاد میں طاقت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خدمت گار میرے خدمت گار نہیں بلکہ گڑھی خدا بخش کے خدمت گار ہیں ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہو گئی ہے ؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف عسکری قیادت کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور انہیں ساتھ لے کر چلنا چاہئے ۔ آپ میڈیا والوں کو چٹ پٹی خبریں چاہئیں ۔

کسی کی بے عزتی نہ ہو یا سیاست دانوں کو آپس میں لڑوایا نہ جائے تو آپ کی خبر نہیں بنتی ۔ میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہئے ۔ اگر میری گھی اور سیمنٹ کی فیکٹری ہے تو میں ٹی وی فیکٹری بھی لگا لیتا ہوں ۔ ٹیکسٹائل ملز والے بھی ٹی وی چینلز چلا رہے ہیں تاکہ وہ ایک پاور بن جائیں ۔ میڈیا ایک طاقت ہے ۔ کوئی اسے سنجیدگی سے استعمال کرتا ہے اور کوئی اسے غیر سنجیدگی سے استعمال کرتا ہے ۔

اس سوال پر کہ کیا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومت ختم ہونے کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے دعوے درست ہیں اور کیا 2015 انتخابات کا سال ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے ۔ اس حکومت نے اپنی مدت پوری کی تو آئندہ جمہوریت کو طاقت ملے گی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ سب سے یاری کی بات کرتے ہیں لیکن آپ نے اپنے یاروں کے بارے میں ایک شعر بھی پڑھا تھا کہ ” دیکھا جو کمیں گاہ کی طرف ، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی “ ؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ میں اپنے گندے انڈوں کی بات نہیں کر رہا تھا ۔

انہوں نے کہاکہ میں جب لیاری کا دورہ کروں گا ، مجھے لیاری کی زیادہ فکر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک اپنی جگہ موجود ہے لیکن کچھ ماحول بن جاتا ہے اور ہوا چل جاتی ہے ۔ چوہدری شجاعت حسین کا بیان پڑھ لیں ۔ ایسے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر آ جاتے ہیں ، جو انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ہم نے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے کام کیا ۔

ہم نے ووٹ کے لیے انگوٹھا لگانے کے علاوہ دیگر اقدامات کیے ۔ حالانکہ ہمیں کسی نے کہا نہیں تھا لیکن ریٹرننگ افسروں کا فیکٹر آ گیا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ اور خود مختار الیکشن کمیشن بنے ۔ سیشن جج کے خلاف تو ہم کیس نہیں کر سکتے لیکن اگر ہمارے پاس دھاندلی کے ثبوت ہوں تو ہم الیکشن کمیشن کے کسی اہلکار کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرا سکتے ہیں اور عدالت میں بھی جا سکتے ہیں ۔

انتخابی اصلاحات ایک جاری عمل ہے ۔ مورخ کہتے ہیں کہ صدر بش کے پہلے الیکشن میں وہ ہار گئے تھے ۔ مسئلے ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ انتخابی اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہئے ۔ اس سوال پر کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے آپ کے پاس کیا پلان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے ۔ اس سے بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ ہم نے لینڈ ریکارڈ کی گوگل میپنگ کی ہے اور کمپیوٹرائز لینڈ بینک بنایا ہے ۔

اس سے ایک الگ محکمہ بنے گا ۔ انٹرنیٹ پر ہر کوئی یہ معلوم کر سکے گا کہ اس کا پلاٹ پہلے کس کے پاس تھا اور وہاں کیا تھا ۔ میں اس پروگرام کا جلد افتتاح کرنے والا ہوں ۔ اسی طرح ہم نے سندھ بینک میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے ۔ گھوسٹ ٹیچرز ، پولیس اہلکاروں اور دیگر ملازمین کی نشاندہی کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں ۔ اس طرح چیزیں بہتر ہوں گی ۔

اسکولز اور اسپتالوں کو این جی اوز کے ذریعہ چلانے کی بھی تجویز ہے ۔ اس سے سرکاری فنڈز میں خرد برد کم ہو سکے گی ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ کہا ہے کہ وہ میری دعوت پر پارلیمنٹ میں آئے ہیں ۔ آگے چل کر بھی ان سے بات ہو سکتی ہے ۔ ایسی کوئی چیز نہیں ، جس پر ڈائیلاگ نہ ہو سکے ۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام میں سیاسی جرگے کا کردار قابل تعریف ہے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی سے بھی اصولوں پر مفاہمت نہیں ہو سکتی ہے ۔ سند میں بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔ ہمارے پاس ہوا ، کوئلہ اور گیس موجود ہے ۔ وفاقی حکومت اس سے فائدہ اٹھا کر بجلی حاصل کر سکتی ہے ۔ اس سے پورا ملک مستفید ہو سکتا ہے ۔ ہم صوبوں کی نہیں پاکستان کی یکجہتی کی بات کرتے ہیں ۔ کوئی ہم سے بات کرے گا تو ہم اس معاملے پر ان سے بات کریں گے ۔

مشترکہ مفادات کونسل صوبوں کے مسائل کے حل کا پلیٹ فارم ہے ۔ سندھ کے مسائل پر ہم نے کونسل میں احتجاج کیا ہے ۔ خیبر پختونخوا نے بھی احتجاج کیا ۔ احتجاج اور واک آوٴٹ جمہوری راستہ ہے ۔ اس کی وجہ سے ڈائیلاگ ہوا ۔ یہ پاکستان کا ایشو ہے ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کا نواز شریف سے کوئی جھگڑا ہے تو انہوں نے کہاکہ میرا نواز شریف سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے ۔

مسائل پر ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے ۔ اسلام آباد میں جب لوگ جاتے ہیں تو وہ پاکستان کو بھی بھول جاتے ہیں ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنی یاد داشتیں لکھیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے دل میں بہت راز ہیں ۔ شہید بھٹو کے زمانے سے میرے سینے میں راز موجود ہیں ۔ اگر راز افشاں کرنے سے عوام کی بہتری ہو تو سوچا جا سکتا ہے ۔ دنیا کے بڑے لیڈرز بھی اپنی یاد داشتیں لکھتے ہیں لیکن وہ سارے راز بیان نہیں کر پاتے ، جو ان کے پاس ہوتے ہیں ۔ میں بھی 70 فیصد بتاوٴں گا ، 30 فیصد نہیں بتا سکوں گا ۔

وقت اشاعت : 09/04/2015 - 21:15:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں