کراچی، عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران ایک درجن سے زائد بار اپنا روٹ تبدیل کیا ..
تازہ ترین : 1
کراچی، عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران ایک درجن سے زائد بار اپنا روٹ ..

کراچی، عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران ایک درجن سے زائد بار اپنا روٹ تبدیل کیا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء)تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جمعرات کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246کی انتخابی مہم کے سلسلے میں دورے کے دوران میڈیا کو مختلف اوقات میں چکما دیتے رہے اور دن بھر ایک درجن سے زائد بار اپنا روٹ تبدیل کیا ۔تحریک انصاف کے سربراہ اپنے قریبی دوست کی رہائش گاہ سے دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب جلوس کے ہمراہ نکلے ۔

حسن اسکوائر پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔کارکنوں اور رہنماوٴں نے پھول نچھاور کیے ۔ایک بڑے جلوس کی شکل میں عمران خان غریب آباد پہنچے جہاں سے کریم آباد جانے کی بجائے وہ حسین آباد چلے گئے اور میڈیا کے لوگ کریم آباد میں ان کا انتظار کرتے رہے ۔تحریک انصاف کے سربراہ نے شیڈول کے مطابق جناح گراوٴنڈ جانے کے لیے واٹر پمپ کی بجائے مکا چوک کے پاس سے جناح گراوٴنڈ جانے کا فیصلہ کیا اور دو بجے کے قریب ایک بڑے جلوس کے ہمراہ جناح گراوٴنڈ پہنچے جہاں پر ایم کیو ایم کے کارکن اور رابطہ کمیٹی کے ارکان ان کے استقبال کے لیے پہلے سے ہی موجود تھی ۔

تاہم ایم کیو ایم کے افراد نائن زیرو کی اطراف میں رہے ۔اس دوران عمران خان اور ان کے ساتھی یہ کہتے رہے کہ ہم ایم کیو ایم کے رہنماوٴں سے ملیں گے اور ان کی دعوت میں بھی شرکت کریں گے ۔لیکن جناح گراوٴنڈ کے مختصر دورے کے دوران عمران خان نے پارٹی رہنماوٴں کو جلد نکلنے کا حکم دیا اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما دیکھتے ہی رہ گئے ۔عمران خان فوری طور پر اپنی اہلیہ ریحام خان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہوئے اور جناح گراوٴنڈ سے باہر آئے۔

اس دوران تحریک انصاف کے مختلف رہنما عمران خان کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز کے قریب جائیں اور تحائف اور گلدستے وسول کریں لیکن عمران کسی صورت راضی نہیں ہوئے ۔اسی دوران متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ،کنور نوید جمیل ،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر عمران خان کی گاڑی کے پاس پہنچے اور ان سے مصافحہ کیا تاہم بات چیت نہ ہوسکی ۔

ا س دوران متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے اس کو محسوس کیا اور ناراض ہوئے ۔جبکہ دوسر ی جانب تحریک انصاف کے کارکنوں نے عمران خان کے اس رویے کو دیکھ کر اپنے جوش کا بھرپور اظہار کیا اور پھر دونوں جماعتوں کے مابین ہنگامہ آرائی اور متعدد کارکن زخمی بھی ہوئے ۔اس مختصر ہنگامہ آرائی کے دوران لاتوں ،گھونسوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال ہوا تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے کوئی بڑا تصادم رونما نہیں ہوسکا ۔

عمران خان واٹر پمپ کے پاس رکے اور رہنما انہیں پھر راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ نائن زیرو کے قریب جاکر ایم کیو ایم کے تحائف وصول کیے جائیں لیکن عمران خان نے کسی صورت ماننے سے انکار کیا اور فوری طور کریم آباد پہنچے جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا ۔نارتھ ناظم آباد کی طرف نکلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب میں ایئرپورٹ کی طرف جارہا ہوں اور ان کے رہنما بھی یہی کہتے رہے ۔

دوسری جانب خواتین ونگ کی صوبائی سربراہ نازیہ ربانی نے اپنے گھر پر کھانے کا انتظام کیا تھا اور پریشانی کا شکار ہوئیں لیکن پونے چار بجے کے قریب اچانک ان کے گھر پہنچ گئے جس کی میڈیا کو بھی توقع نہیں تھی ۔ جہاں پر تقریباً آدھا گھنٹا رکے اور اس کے بعد پھر این اے 246کے مختلف علاقوں کا مختصر دور ہ کیا اور ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہوئے ۔

وقت اشاعت : 09/04/2015 - 18:03:52

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں