انبیاء علیھم الصلاة والسلام کی شبیہ بنانا بدترین گستاخی ہے،مفتی محمدنعیم
تازہ ترین : 1

انبیاء علیھم الصلاة والسلام کی شبیہ بنانا بدترین گستاخی ہے،مفتی محمدنعیم

ایران کی جانب سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ پر مبنی فلم قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہے

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 اپریل۔2015ء) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے ایران کی جانب سے حضور کی شبیہ پر مبنی فلم بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ انبیاء علیھم الصلات والسلام کی شبیہ بنا نابدترین گستاخی ہے،ایران کی جانب سے حضور کی شبیہ پر مبنی فلم قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہے،یمن کے مسئلہ سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک نیا تنازع کھڑا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے،متنازع فلم کودیکھنا اور تشہیر کرنا حرام، ناجائز اور ایمان کیلئے خطرناک ہے،کسی فنکار کو نبی کے روپ میں خود کو پیش کرنا بدترین گستاخی ہے، مذکورہ فلم کی تشہیر کو روکنے میں حکومت کردار اداکرے اور عالمی سطح پر پابندی لگائی جائے۔

پیر کو جامعہ بنوریہ عالمیہ میں نبی کریم کی شبیہ پر مبنی ایران کی جانب سے بنائی جانے والی متنازع فلم کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے مفتی محمد نعیم نے کہاکہ عالم اسلام کے خلاف ہر طرح سے سازشوں کے جال بچھائے جارہے ہیں ایک طرف عالم اسلام کے مرکز حرمین پر قبضہ کی دھمکیاں دی جارہی ہیں تو دوسری جانب توجہ ہٹانے کیلئے حضور کی گستاخی کا ارتکاب کیاجارہاہے ایسے وقت میں اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو سمجھ کر عالم اسلام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایران کی جانب سے متنازع فلم بناناقابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہے، انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کی یمن سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک نئے حربے کا استعمال کیا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ مبینہ طور پر فلم میں آپ کی شبیہ بنائی گئی ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا بلکہ انبیاء کی شبیہ بنانے کو اسلام نے گستاخی قرار دیا ہے، اس طرح کی فلمیں عالم اسلام کی دلازاری کا باعث ہے اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہے،انہوں نے کہاکہ فلم خواہ کوئی بھی اس کا دیکھنا حرام ہے، خصوصا انبیا کرام علیھم السلام یا صحابہ کرام علیھم الرضوان کے کردار پر مبنی فلم کا دیکھنا خواہ کسی بھی غرض سے ہو حرام اور ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کے لیے بھی خطرناک ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایرانی علماء اور جامعہ ازہر مصر جیسے مقتدر اداروں کی طرف سے ایسی فلموں کے خلاف شدید احتجاج کے باوجود فلم بندی مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے آج تک یہودونصریٰ بھی حضور کی شبیہ پر مبنی فلم بنانے کی جسارت نہ کرسکے ایک مسلمان ملک کی جانب سے اس قسم کی حرکت عالم اسلام کو انار کی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے، مفتی محمد نعیم نے مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں اس فلم کی تشہیر اور نمائش پر پابندی عائد کی جائے اور حکومت اسے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/04/2015 - 22:58:52

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں