پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی لین دین کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دیا ..
تازہ ترین : 1

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی لین دین کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے،کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 اپریل۔2015ء)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر اورکاٹی کے صدر راشد احمد صدیقی نے سری لنکن صدر میتھری پالا سریسنا کے دورہ پاکستان کے موقع پر دوطرفہ تجارتی لین دین کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی لین دین کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں منگل کے روز کہی ۔ایس ایم منیر نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے اور ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہترہونے کے باعث ترکی و سری لنکن عہدیداران پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں جبکہ پاکستان میں چین،سوئٹزرلینڈ،برطانیہ،امریکا،یورپی ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری بھی کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین اسوقت جاری تجارتی لین دین 43کروڑ80لاکھ ڈالر ہے جس میں مزید اضافے کوممکن بنایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سری لنکن سرمایہ کار پاکستان کے ٹیکسٹائل ،لیدر،زرعی ،توانائی اور گارمنٹس سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے معاہدے کرسکتے ہیں اور پاکستان میں موجود مواقع کا بھرپورفائدہ بھی اٹھاسکتے ہیں۔

کاٹی کے صدر راشد احمدصدیقی نے کہا کہ پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے مابین پریمیئر لیگ کا انعقادکیا جاسکتا ہے اور تجارت کو دوطرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں پرامن اور سازگارماحول کی فضاء پیدا کرنے کے لیے بھرپوراقدامات کیے جارہے ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف افواج پاکستان ،رینجرز اور پولیس کاروائیوں میں مصروف عمل ہے، لہذا ہمسایہ ممالک بھارت،بنگلہ دیش ،سری لنکا ،افغانستان کو چاہیے کہ وہ کرکٹ اور دیگرکھیلوں کو آپس میں فروغ دیتے ہوئے جنوبی ایشیاء میں سازگارماحول کی راہ ہموارکرے ۔

راشد احمدصدیقی نے سری لنکن صدر اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کا دورہ کرنے کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں کی رونق بحال ہوگی اور نوجوان نسل میں مزید مقابلے کی فضاء اور اچھی کرکٹ دیکھنے کا قریب سے موقع میسر آسکے گا۔

وقت اشاعت : 08/04/2015 - 13:01:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں