استقبال کیلئے نائن زیرو انڈے اور ٹماٹر پہنچ گئے،عمران خان کا دعوی
تازہ ترین : 1
استقبال کیلئے نائن زیرو انڈے اور ٹماٹر پہنچ گئے،عمران خان کا دعوی

استقبال کیلئے نائن زیرو انڈے اور ٹماٹر پہنچ گئے،عمران خان کا دعوی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 اپریل۔2015ء)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہکراچی کے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی سے اتحاد کی بات چل رہی ہے‘ اپنی ٹیم کو مضبوط کرنے کے لئے کراچی جارہا ہوں‘ سارا دن حلقے میں مہم چلاؤنگا‘فیصلہ عوام نے کرنا ہے وہ کس کو ووٹ دینا چاہتے ہیں‘ سنا ہے میرے استقبال کیلئے نائن زیرو انڈے اور ٹماٹر پہنچ گئے ہیں‘ مجھے کسی بات کی فکر نہیں‘ اگر ہمارے کارکنوں کو کوئی نقصان پہنچا تو الطاف حسین کے خلاف مقدمہ کریں گے‘الطاف حسین باہر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور بھڑکاتے ہیں جو برطانوی قانون کے خلاف ہے‘ کراچی میں سکیورٹی کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن نوگوایریاز اور خوف کی فضا کو ختم کرنا ضروری ہے‘ پاکستان کو یمن جنگ میں کسی صورت اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہئے ورنہ ملک میں فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے‘ جمعہ کو پارلیمنٹ کے سیشن میں حکومتی تنقید کا جواب دونگا ۔

بدھ کو یہاں بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اپنی ٹیم کو مضبوط کرنے اور این اے 246کی مہم چلانے کے لئے کراچی جارہا ہوں(آج) جمعرات کو پورا دن حلقے میں مہم چلاؤں گا۔ کراچی جانے کا مقصد خوف کی فضا کو توڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پارلیمنٹ کا سیشن جمعہ تک چلے گا جس میں آکر اپنی بات کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سکیورٹی کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن ہم نے جانا ضرورت ہے۔

خطروں کا سامنا نہیں کریں گے تو نو گو ایریاز ختم نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوگو ایریاز غیر جمہوری ہیں جو لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں وہ نو گو ایریاز کیسے بنا سکتے ہیں۔ پاکستان سب کا ملک ہے فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا قیام پاکستانی قوم کے لئے بڑی خوشخبری ہے آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں متنازعہ ہوئے ہیں۔

آئین میں 218کی شق کے مطابق صاف‘ شفاف الیکشن کے ذریعے ہی پارلیمنٹ بن سکتی ہے سب جماعتیں کہہ چکی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے لئے قانون بنایا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے پتہ چل جائے گا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر ہمارے کارکنوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا تو الطاف حسین کے خلاف کیس کرینگے۔

الطاف حسین باہر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور بھڑکاتے ہیں جو برطانیہ میں قانون کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ میرے استقبال کیلئے نائن زیرو پر انڈے اور ٹماٹر پہنچ گئے ہیں لیکن مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ میری زندگی کرکٹ کھیلتے ہوئے گزری ہے اس دوران لوگ مجھے بہت برا بھلا کہتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہمارے کیمپوں پر حملے غیر جمہوری ہیں کوئی بھی شخص کہیں سے الیکشن لڑ سکتا ہے فیصلہ عوام نے کرنا ہے وہ کسے منتخب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی سے اتحاد کی بات چل رہی ہے جلد ہی سراج الحق سے رابطہ کرکے بات کرونگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری کا انتظار کررہا ہوں کب وہ کٹہرے میں آتے ہیں جہاں ان کو میں جواب دونگا۔ عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف نے اسمبلی میں غیر پارلیمانی زبان استعمال کی اس طرح سے کوئی گیا گزرا شخص بھی نہیں کرتا۔

نواز شریف معصوم چہرہ بنا کر بیٹھے اپنے درباریوں کو خوش کرتے رہے انہیں خواجہ آصف کو روکنا چاہئے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے کنٹینر پر آج تک جو بھی بات کی اس پر قائم ہوں کبھی کسی کی ذاتیات پر بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی وجہ سے اسمبلی میں آئے ہیں جب تک ثابت نہیں ہوتا الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں اسمبلی جعلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف ہمیں اسمبلی میں آنے کی دعوت دی اور پھر دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے اندر مچھلی بازار بنا دیا۔

یمن کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت یمن جنگ میں اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہئے میں اس کی سخت مخالفت کرتا ہوں پاکستانی حکومت کا کام ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے لوگوں کے حالات ٹھیک کرے ہم پہلے بھی امریکہ کی جنگ میں شامل ہوئے وزیرستان کے دس لاکھ متاثرین کو بھی واپس بھیجنا ہے ملک میں بھوک ہے اور صحت کا کوئی انتظام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے دوستی کو نبھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرپاکستان نے یمن جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کی تو ملک میں فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

وقت اشاعت : 08/04/2015 - 12:43:25

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں