ایران کے حق میں تقریریں کرنے والے ایران کو پاکستانی بلوچستان میں مداخلت سے روکیں،علامہ ..
تازہ ترین : 1

ایران کے حق میں تقریریں کرنے والے ایران کو پاکستانی بلوچستان میں مداخلت سے روکیں،علامہ اورنگزیب فاروقی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07 اپریل۔2015ء) سعودی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کو ڈوبنے سے بچایا ہے ساری دنیا کو چھوڑ کر جب سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا تھا اب مشکل کی صورتحا ل میں پاکستان کو بھی سعودیہ کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیئے ایران کے حق میں تقریریں کرنے والے ایران کو پاکستانی بلوچستان میں مداخلت سے روکیں ایران نے پاکستان کو کو ہر اعتبار سے غیر مستحکم کیا ہے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے آج بھی ایران میں ٹریننگ کیمپ چلارہے ہیں ایران انڈیا کا اتحادی ہے ان خیالات کااظہاراہلسنت والجماعت کے مرکزی صدروعلامہ اورنگزیب فاروقی نے مرکزاہلسنت میں سنی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے گفتگوکرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ سعودیہ پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جہاں آج بھی 20لاکھ پاکستانی روزگار کے حصول کے لئے موجود ہیں پاک فوج سعودی عرب جائے تو پوری قوم پشت پر ہوگی ہر قسم کے حالات میں پاک فوج کی حمایت کی ہے آج بھی پاک فوج کی حمایت کرتے ہیں پارلیمنٹ متفقہ قرارداد کے ذریعہ سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کرے،۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، اب ہم پر بھی واجب ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں، پاکستان کی پارلیمنٹ کی طرف سے پوری دنیا کو متفقہ طور پر یہ پیغام جانا چاہئے کہ حرمین شریفین کے دفاع کیلئے پاکستانی قوم اور مسلح افواج سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گی کیونکہ حرمین شریفین کا دفاع ہر پاکستانی کا جزوِ ایمان ہے علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہاکہ سعودی عرب ہمارے دکھ درد کا شریک ہے مشکل کی ہرگھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ایٹمی پاکستان کا سب سے مخلص اور ہمدرد دوست سعودی عرب ہے، جس نے زلزلہ ،سیلاب سمیت کسی بھی ناگہانی آفات سے نبٹنے کیلئے پاکستان کی دل کھول کرمدد کی اور ساتھ دیا آج اگر سعودی عرب کا ساتھ نہ دیا گیا تو احسان فراموشی ہوگی اور پاکستان احسان فراموش نہیں ہے، حرمین شریفین کا تحفظ ہر کلمہ گو مسلمان کی ذمہ داری ہے باغی حوثیوں نے حرمین پر حملہ کی دھمکی دیکر عالم اسلام کو خبردار کیا ہے، آج عالم اسلام بالخصوص پاکستان اورترکی کو بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ٹھوس فیصلہ کرنا چاہیے ۔

وقت اشاعت : 07/04/2015 - 21:42:19

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں