امن وامان کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں 87 اسکولز بند ہیں،نثار احمد کھوڑو
تازہ ترین : 1

امن وامان کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں 87 اسکولز بند ہیں،نثار احمد کھوڑو

مجموعی طور پر 3729 اسکولز بند ہیں ، ان میں سے 1677 اسکولز اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہیں ،وزیر تعلیم سندھ کا ایوان میں جواب

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07 اپریل۔2015ء ) سندھ کے سینئر وزیر برائے تعلیم و خواندگی نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ امن وامان کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں 87 اسکولز بند ہیں جبکہ مجموعی طور پر 3729 اسکولز بند ہیں ۔ ان میں سے 1677 اسکولز اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہیں ۔ حکومت سندھ نے 1500 اسکولز کھول دیئے ہیں ۔ باقی اسکولز بھی جلد کھول دیئے جائیں گے ۔

یہ باتیں انہوں نے منگل کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضنمی سوالوں کے جوابات میں بتائیں ۔ سینئر وزیر تعلیم نے بتایا کہ صوبے میں لیکچررز کی 6115 منظور شدہ اسامیاں ہیں جبکہ 30 مارچ 2015ء تک 5300 لیکچررز کام کر رہے تھے ۔ اس طرح 815 اسامیاں خالی ہیں ۔ 2014ء میں 1100 سے زیادہ اسامیاں خالی تھیں ۔ 300 لیکچررز کی کمیشن کے ذریعہ بھرتی ہو چکی ہے ۔

اب ان کی تقرری ہونی ہے ۔ باقی 815 اسامیاں بھی جلدپر کی جائیں گی ۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ صوبے میں کل 3729 اسکولز بند ہیں ۔ ان میں سے 1677 اسکولز اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث بند ہیں ۔ 659 اسکولز کے لیے آبادی اور انرولمنٹ نہیں ہے ۔ 137 اسکولز بہت پہلے بند کر دیئے گئے تھے اور ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ 103 اسکولز ختم یا منتقل کر دیئے گئے ۔ 87 اسکولز امن و امان کی وجہ سے بند ہیں جبکہ 1066 اسکولز ناقابل عمل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 1500 اسکولز پہلے ہی کھول دیئے ہیں ۔ ان میں سے 1300 اسکولز میں این ٹی ایس کے ذریعہ بھرتی کردہ اساتذہ کو تعینات کیا گیا ۔ باقی اسکولز بھی جلد کھول دیئے جائیں گے ۔ اساتذہ کی 20700 خالی اسامیوں میں سے 17000 سے زائد اسامیوں پر این ٹی ایس کے ذریعہ بھرتیاں کر لی گئی ہیں ۔ 18 اضلاع کے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو تنخواہیں جاری کردی گئی ہیں ۔

باقی اضلاع میں بھی جلد جاری کر دی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ دور حکومت میں منظور شدہ اسامیوں سے زیادہ بھرتیاں کی گئی تھیں ۔ ہم ان بھرتیوں کو غیر قانونی اور یہ اسامیاں خالی تصور کرتے ہیں ۔ ان پر بھی نئی بھرتیاں ہوں گی ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ محکمہ خزانہ حکومت سندھ نے ایک ارب 50 کروڑ سے انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا ، جو غریب اور مستحق طلباء کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فیس کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ 2003 سے اب تک 6297 طلباء کو اس فنڈ سے فائدہ ہوا ہے ۔ صوبے کے 30 سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے مستحق طلباء کی اس فنڈ سے مدد کی جاتی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/04/2015 - 19:19:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں