این اے 246کو فوج کے حوالے کیا جائے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو انتخابی مہم ..
تازہ ترین : 1

این اے 246کو فوج کے حوالے کیا جائے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی اور انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،کارکنوں کی جانوں کو خطرہ ہے ، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں، تحریک انصاف کے رہنما اور پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار عمران اسماعیل کی پریس کانفرنس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 اپریل۔2015ء)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ این اے 246 میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانوں کو خطرہ ہے، ہمیں گھر گھر مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اورپی ٹی آئی کے خلاف انتخابی مہم میں کی جانے والی انتقامی کارروائیوں میں ایم کیو ایم کے امیدوار کنور نوید جمیل ملوث ہیں۔

این اے 246 مکمل طور پر فوج کے حوالے کیا جائے۔ وہ اتوار کو فیڈرل بی ایریا واٹر پمپ میں پی ٹی آئی کی رہنما نازیہ ربانی کے گھر پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پتا نہیں کیوں خوفزدہ ہے اور وہ مذکورہ حلقے میں سیکورٹی کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں ایم کیو ایم ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کس قانون کے تحت ہمارے کیمپ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو چھوڑا گیا ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ انتظامیہ اور پولیس جانبدار ہے اور وہ ایم کیو ایم کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا چاہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کو سیکورٹی دینا حکومت اور انتظامیہ کا کام ہے۔ ہمیں پولیس اور انتظامیہ پر اعتبار نہیں ہے۔ اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حلقے کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نے واضح کردیا ہے کہ ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آج کے اجلاس کا مقصد بھی یہی تھا کہ کسی طرح ایم کیو ایم کے ساتھ دوستی کرلی جائے۔

انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے دونوں جماعتوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہم نے نہیں کی۔ گورنر ہاؤس میں اجلاس کے بعد ہم ضابطہ اخلا ق پر عمل درآمد کررہے ہیں تاہم ایم کیو ایم ضابطہ اخلاق سے منحرف ہوگئی ہے اور ہماری انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی وہ شہر تھا جس کی 68 فیصد تعلیم یافتہ افراد سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دیتے تھے۔

آج انتظامی طور پر کراچی کے انتہائی کم افراد سرکاری عہدوں پر ہیں۔ اس شہر سے پروین شاکر، جون ایلیا، ناصر کاظمی، صادقین اور دیگر نامور شخصیات نے جنم لیا ہے۔ ایم کیو ایم نے اس شہر کے نوجوانوں کو قلم کے بجائے بندوق پکڑادی۔ اجمل پہاڑی، صولت مرزا اور فیصل موٹابھی ہمارے بچے ہیں۔ ایم کیو ایم نے ان کو قلم تھمانے کے بجائے اسلحہ دیدیا۔ ہم ایم کیو ایم سے نوجوانوں پر کی جانے والی اس زیادتی کا حساب مانگتے ہیں۔

کراچی کے نوجوانوں کو این اے 246 سے کامیاب ہو کر اسلحے کے بجائے قلم دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کا باشندہ ہوں اور کراچی سے ہی الیکشن لڑرہا ہوں۔ ایم کیو ایم دعویٰ کرتی ہے کہ این اے 246 ان کی سیٹ ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اس سیٹ پر ان کو کنور نوید جمیل جیسے ہی افراد ملتے ہیں ان کا تو اس حلقے سمیت کراچی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ کیا ایم کیو ایم اس سیٹ پر مقامی کارکن کو ٹکٹ نہیں دے سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کراچی کا دورہ بھی ہوگا اور 19 اپریل کو تاریخی جلسہ بھی جناح گراؤنڈ عزیز آباد میں ہوگا۔ اس موقع پر عارف علوی نے کہا کہ اس سے پہلے سازشی عناصر اس حلقے کی صورت حال خراب کریں اور لاشیں گرادیں میں حکومت سے کہتا ہوں کہ این اے 246 کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ کمشنر ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ ہم سیکورٹی کے لئے کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے اور نہ ہی کسی کے پاس اس حوالے سے جائیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 05/04/2015 - 21:58:35

اپنی رائے کا اظہار کریں