ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کراچی نے جعلی کمپنی پر ..
تازہ ترین : 1

ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کراچی نے جعلی کمپنی پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے کے جعلی سیلزٹیکس ریفنڈکے14 رکنی گروہ کا سراغ لگالیا

گروہ کے ایک رکن میسرز زینت امپیکس کے پروپرائیٹر محمد عادل اشرف گرفتار، ٹیکسٹائل شعبے کوملنے والی ترغیبات کے غیرقانونی استعمال میں بھی ملوث ہے

کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار5اپریل ۔2015ء)ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کراچی نے قومی خزانے سے جعلی کمپنی اور جعلی دستاویزات پر کروڑوں روپے مالیت کے جعلی سیلزٹیکس ریفنڈ کے ایک اور14 رکنی گروہ کا سراغ لگاکرگروہ کے ایک رکن اور میسرز زینت امپیکس کے پروپرائیٹر محمد عادل اشرف کو گرفتار کرلیا ہے جوشعبہ ٹیکسٹائل کوایس آراو1125 کے تحت ملنے والی ترغیبات کے غیرقانونی استعمال میں بھی ملوث ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریجنل ٹیکس آفس ٹو میں رجسٹرڈ میسرز ابوبکرانٹرپرائزز نامی جعلی کمپنی نے قومی خزانہ میں ایک روپپہ ٹیکس ادا نہ کرنے کے باوجود جعلی دستاویزات پر سیلز ٹیکس ریفنڈ کی مد میں 4 کروڑ89 لاکھ63 ہزار روپے کی غیرقانونی وصولیاں کی ہیں۔ آئی اینڈ آئی حکام کے مطابق مذکورہ گروہ کا ماسٹر مائنڈ دبئی فرار ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی تاہم اس ماسٹر مائنڈ کا نام فی الوقت صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

گروہ کے گرفتار رکن نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ گروہ کے ماسٹر مائنڈ نے ان کے نام سے مختلف بینکوں میں26اکاوٴنٹس کھلوائے تھے جبکہ گروہ کے دیگر ارکان کے بھی مختلف بینکوں میں 26 سے زائد اکاوٴنٹس ہیں جن کے چیکس پران سے پہلے ہی دستخط لے کرگروہ کے سرغنہ نے وہ اپنے قبضے میں لے لیے ہیں تاکہ غیرقانونی کام تیز رفتاری کے ساتھ ہوسکے جبکہ اکاوٴنٹ ہولڈرکو اس کے عوض کمیشن کی مد میں انتہائی معمولی رقم دی جاتی تھی۔

گرفتاررکن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کراچی کے کچھ بڑے ٹیکسٹائل یونٹس ترغیبی ایس آراو1125 سے استفادے کے باوجود قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں اس گروہ کے توسط سے بھاری نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں، ترغیبی ایس آراوکے تحت رعایتی ٹیرف پر درآمدی خام مال غیررجسٹرڈ شخص یا ادارے کوفروخت کرنے کی صورت میں ان ٹیکسٹائل ملوں پر5 فیصد سیلزٹیکس عائد ہوتا ہے لیکن ان ٹیکسٹائل یونٹوں نے غیررجسٹرڈ افراد واداروں کو خام مال فروخت کرکے مذکورہ گروہ کے تعاون سے عائد ہونے والے5 فیصد سیلزٹیکس کی چوری کی۔

آئی اینڈ آئی کراچی کے حکام کا کہنا ہے کہ گروہ کے مزید افراد کی گرفتاریوں کی صورت میں مزید سنسنی خیزانکشافات متوقع ہیں اور آئی اینڈ آئی کی تحقیقاتی ٹیم نے ایس آراو1125 سے استفادے کے باوجود5 فیصد سیلزٹیکس چوری میں ملوث ٹیکسٹائل یونٹوں کی بھی چھان بین شروع کر دی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 05/04/2015 - 15:15:15

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں