مشہور امریکی وکلاء کاوفد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے ..
تازہ ترین : 1

مشہور امریکی وکلاء کاوفد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے کل کراچی پہنچے گا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03 اپریل۔2015ء)عافیہ موومنٹ پاکستان کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سماجی انصاف اور سول رائٹس کے لئے جدوجہد کرنے والے مشہور امریکی وکلاء اسٹیفن ڈاؤنز اور کیتھی مینلے پر مشتمل ایک وفد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور مختلف قانونی و سیاسی پہلوؤں کو واضح کرنے کے لئے 4اپریل کو کراچی پہنچ رہا ہے۔

وکلاء کا یہ وفد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فیملی سے ملاقات کرنے اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کرنے کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، حکومتی اور سفارتی حلقوں سے بھی اہم ملاقاتیں کرے گا اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی عملی کوششوں اورطریقہ کار پر زور دیگا۔ اسٹیفن ڈاؤنز ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور چلنے والے مقدمے کے عینی گواہ ہیں اور 86سالہ متعصبانہ سزا کے بعد اسٹیفن ڈاؤن نے اس فیصلے کو امریکی تاریخ کی ” عظیم“ ناانصافی قرار دیا تھا۔

امریکی وکلاء بروز اتوار سہ پہر 3:00 بجے کراچی پریس کلب پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے بھی خطاب کرینگے۔ وفد میں شامل مشہور اٹارنی اسٹیفن ڈاؤنز اور کیتھی مینلے امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کے لئے ایک طویل عرصے سے جدوجہد کررے ہیں ۔ امریکہ میں 9/11کے بعد ایف بی آئی اور امریکن جسٹس ڈپارٹمنٹ کی ایماء پر دہشت گردی کو روکنے کے نام پر حفظ ماتقدم اور احتیاطی شک کی بنیاد پر بننے والے بھیانک قوانین کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر متاثر ہونے والے مسلمانوں کو قانونی اور اخلاقی مدد فراہم کرنے کے لئے اسٹیفن ڈاؤن اور اُن کی شریک کار کیتھی مینلے نے پروجیکٹ SALAM (SUPPORT & LEGAL ADVOCACY FOR MUSLIMS) کا آغاز کیا ۔

ان دونوں وکلاء نے پروجیکٹ SALAMکے تحت کی جانے والی اپنی ریسرچ کے ذریعے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے نام پر بنائے جانے والے کالے قوانین پر سے پردہ اٹھایا اور مسلمان شہریوں اور خصوصاََ مسلمان قیدیوں کے ساتھ ہونے والے بھیانک سلوک کی نشاندہی کی اور ثابت کیا کہ 80فیصد مقدمات FBIکے جھوٹ اور ملمع کاری کا ”شاہکار “ہیں اور ناانصافی پر مشتمل ہے ۔

پروجیکٹ SALAMکی اس ٹیم کا ایک قابل ذکر کارنامہ یہ ہے کہ اس ٹیم نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں خفیہ تفتیشی مراکز اور جیلوں میں تشدد کے حوالے سے رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے ۔ جس کے نتیجے میں جدید دنیا مسلمان قیدیوں پر ہونے والے بھیانک مظالم سے لرز اٹھی اور امریکی ایجنسیوں کا بھیانک چہرہ سامنے آیا۔

ڈاکٹر عافیہ کے خلاف متعصبانہ فیصلے کے بعد 2010میں اسٹیفن ڈاؤنز اور کیتھی مینلے نیشنل کولیشن ٹو پراجیکٹ سول فریڈمز کے تحت نام نہاد جنگ کے لئے بنائے گئے کالے قوانین کو روکنے کی عملی جدوجہدسے وابستہ ہوگئے ۔ 2012میں اسٹیفن ڈاؤن NCPCFکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کردیئے گئے ۔ دونوں وکلاء کی پاکستان آمد کا مقصد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فیملی سے ملاقات کے بعد عافیہ کے کیس کو قانونی اور سفارتی سطح پر صحیح سمت میں لے جانا اور عافیہ کی واپسی کو یقینی بنانا ہے ۔ اس سلسلے میں دونوں وکلاء حکومتی اور سفارتی حلقوں سے ملاقات کے علاوہ عافیہ موومنٹ کے رضا کاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے مختلف افراد سے بھی ملاقات بھی کریں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 03/04/2015 - 16:58:36

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں