محکمہ بلدیات ایک بڑا محکمہ ہے اور اس میں گھوسٹ ملازمین کے باعث شدید مشکلات کا ..
تازہ ترین : 1

محکمہ بلدیات ایک بڑا محکمہ ہے اور اس میں گھوسٹ ملازمین کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے

وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02 اپریل۔2015ء)وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے جمعرات کے روز سالہا سال سے غیر قانونی طور پر نارتھ ناظم آباد میں مین روڈ پر گرین بیلٹ پر قائم غیر ملکی فاسٹ فوڈ اور مٹھائیوں کی دکان کوسیل کرکے ڈسٹرکٹ سینٹرل کی سیکشن آفیسر شمعون صدف کو معطل کرکے اس کے خلاف کیس محکمہ اینٹی کرپشن میں بھیجنے کی ہدایات دے دی ہیں جبکہ صوبائی وزیر نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں موجود ایک غیر قانونی شادی ہال کو بھی اپنی نگرانی میں مسمار کروادیا جبکہ اسی ڈسٹرکٹ میں “صاف سرسبز پرامن سندھ“ مہم کے تحت گلی کوچوں میں صفائی کی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی جانب سے شروع کی گئی تین روزہ مہم کا بھی جھاڑو لگا کر افتتاح کیا۔

صوبائی وزیر نے اس عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں سرکاری زمینوں، کھیلوں کے میدان، پارکس اور دیگر رفاہی و فلاہی پلاٹس پر موجود تمام تجاوزات کے خاتمہ تک مہم جاری رکھی جائے گی اور محکمہ بلدیات میں موجود گھوسٹ اور کرپٹ ملازمین کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے صوبے بھرمیں جاری صاف سرسبز ، پرامن سندھ مہم کے تحت صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے جمعرات کو ڈسٹرکٹ سینٹرل میں نارتھ ناظم آباد میں گذشتہ کئی برسوں سے گرین بیلٹ پر قائم غیر قانونی پیزا ہٹ، برگر کنگ اور دلپسند مٹھائی کی دکانوں کو اپنی نگرانی میں سیل کروادیا۔

یہ تینوں دکانیں سابقہ ٹاؤن ناظم نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر لیز پر دی تھی اور 2013 میں اس کی معیاد مکمل ہونے کے بعد اسے ایک بارپھر توسیع دی گئی تھی، جس کے بعد کے ایم سی نے جب اس کے خلاف ایکشن لیا تو انہوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرلئے تھے تاہم سپریم کورٹ کے گرین بیلٹ پر سے تمام تجاوزات کے خاتمے کے فیصلے کے بعد کے ایم سی نے ایک بار پھر اس کیس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جمعرات کو صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اچانک نارتھ ناظم آباد میں گرین بیلٹ پر قائم غیر قانونی ہوٹلوں پر پہنچ گئے تاہم اس موقع پر ان ہوٹلز میں مختلف فیمیلز دوپہر کا کھانا کھانے میں مصروف تھیں، جس پر صوبائی وزیر نے ان تمام ہوٹلز کے مالکان کو موجود تمام فیمیلیز کو جانے کی سروسز کی فراہمی کے بعد اپنے ہوٹلز کو خالی کرنے کے احکامات دئیے اور کے ایم سی کے افسران کو فوری طور پر ان کو سیل کرنے کی ہدایات دیں۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مذکورہ گرین بیلٹ میں ماضی میں ٹاؤن ناظم ممتاز حمید نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر اعظم حتیٰ کہ صدر پاکستان سے بھی زیادہ کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان غیر ملکی ریسٹورنٹ کو سرکاری زمین 5 سال کے لئے لیز پر دی اور 2013 میں اس کی لیز کے ختم ہونے کے بعد اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر سینٹرل لطیف لودھی اور موجودہ سیکشن آفیسر نیو کراچی شمعون صدف نے پھر اپنے دائرہ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اس لیز کی توسیع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں موجودہ سیکشن آفیسر شمعون صدف کو فوری طور پر ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا ہے اور لطیف لودھی اور ان کے خلاف کیس کو محکمہ اینٹی کرپشن میں بھیجنے کے لئے سیکرٹری بلدیات کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ٹاؤن ناظم سمیت اس حوالے سے جو بھی دیگر اس میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف بھی مقدمات کا اندراج کرایا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ماسٹر پلان کے تحت جو زمین جس مقصد کے لئے مختص ہے اس کے علاوہ اس کے استعمال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے قبل انہوں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں قائم ایک غیر قانونی شادی ہال کو بھی اپنی نگرانی میں مسمار کروایا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا ، جب تک ہم اس صوبے سے تمام غیر قانونی شادی ہالز اور دیگر تجاوزات کا خاتمہ نہیں کرلیتے۔

انہوں نے کہا کہ میں روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں میں خود شریک ہوں اور روزانہ میں ان تمام تجاوزات کرنے والوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ازخود ان تجاوزات کا خاتمہ کردیں تاکہ وہ نقصان سے بچ جائیں۔ انہوں نے ہا میں تمام سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کو بھی متنبہ کرتا ہوں کہ وہ سرکاری زمینوں پر قائم اپنے غیر قانونی دفاتر کو خود ختم کردیں ورنہ انہیں بھی مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات ایک بڑا محکمہ ہے اور اس میں گھوسٹ ملازمین کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے واٹر بورڈ ہو یا پھر کے ایم سی یا پھر ڈی ایم سیز تمام میں گھوسٹ ملازمین ہیں اور ان کے خاتمے تک ان کے خلاف ایکشن جاری رکھا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک سندھ بینک میں 10 ہزار سے زائد ملازمین نے اپنے کھاتے کھلوا لئے ہیں اور جلد ہی تمام ملازمین کے کھاتے سندھ بینک میں کھلوا لئے جائیں گے، جس کے بعد انہیں تنخواہ ان اکاؤنٹس میں ادا کی جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آکر خوشی ہوئی ہے کہ یہاں صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خلاف نئے آنے والے ایڈمنسٹریٹر ایسٹ سید صلاح الدین اور ان کا عملہ بھرپور کام کررہا ہے جبکہ اس ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر اور ان کی ٹیم بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملازمین اچھا کام کریں گے اور باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے ان کو ترقی بھی دی جائے گی اور انعامات بھی دئیے جائیں گے لیکن جو ملازمین بیرون ملک یا گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں ان کا اب اس محکمہ میں کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے محکمہ بلدیات سے کرپشن کے خاتمے کا عزم کیا ہے اور میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی میں کسی کا کوئی دباؤ قبول کرون گا اور نہ ہی مجھ پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام شادی ہال جنہیں ٹاؤن، ڈسٹرکٹ یا خود کے ایم سی نے ماضی میں اجازت نامے جاری کئے ہیں وہ تمام منسوخ ہوگئے ہیں اور اب کسی کو بھی سرکاری زمینوں، کھیلوں کے میدان، پارکس یا رفاہی و فلاہی زمینوں پر کسی قسم کی کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قبل ازیں صوبائی وزیر نے ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب سومرو، میٹروپولیٹن کمشنر کراچی مسعود عالم، ایڈمنسٹریٹر ایسٹ سید صلاح الدین، ایڈمنسٹریٹر سینٹرل محمد کمال، مصطفی کمال اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے گلشن اقبال بلاک 13 ڈی میں گلی کوچوں میں صفائی مہم کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایسٹ کی جانب سے شروع کی جانے والی 3 روزہ مہم کا بھی افتتاح کیا۔

اس موقع پر انہوں نے خود وہاں موجود گراؤنڈ میں جھاڑو لگائی اور وہاں موجود صفائی کے عملے کے پاس گئے اور ان کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر موجود صفائی کے عملے نے صوبائی وزیر کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی اس مہم کو بھرپور انداز میں کامیاب بنائیں گے اور انہیں اس شہر کو صاف ستھرا اور روشنیوں کا شہر بنانے میں اپنی بھرپور خدمات دیں گے۔ اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں صفائی مہم کی کامیابی کے بعد انہیں تنخواہ کے ساتھ ساتھ انعام کے طور پر بونس بھی دیا جائے گا اور جو ملازمین بہتر کام کریں گے انہیں ترقیاں بھی دی جائیں گی۔

وقت اشاعت : 02/04/2015 - 22:36:24

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں