حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ہر کلمہ گواپناتن من دھن قربان کرنے کوتیارہے،علامہ ..
تازہ ترین : 1

حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ہر کلمہ گواپناتن من دھن قربان کرنے کوتیارہے،علامہ السیدعقیل انجم قادری،

بلاشبہ حرمین شریفین کے تقدس اور اہمیت کے سبب سعودی عرب کو عالم اسلام کا مرکز اور سعودی فرمانرواکو خادم حرمین شریفین سمجھتے ہیں

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31مارچ۔2015ء) حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ہر کلمہ گواپناتن من دھن قربان کرنے کوتیارہے، یمن پر سعودی حملے نے دنیابھرکے مسلمانوں کو اضطراب میں مبتلاکردیاہے، امریکااور اسرائیل مسلمانوں کو باہم لڑواکر عالم اسلام کی تباہی کے ایجنڈے پر عمل پیراہیں، عرب حکمران عالم کفرکی سازش کوسمجھیں ۔جمعیت علماء پاکستان سعودی عرب یمن تنازعے کے حل کے لئے متفقہ لائحہء عمل طے کرنے کی غرض سے آل پارٹیزکانفرنس منعقدکرے گی۔

یہ باتیں جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی ناظم اعلیٰ علامہ السیدعقیل انجم قادری،کراچی ڈویژن کے صدر علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی، مفتی محمدرفیع الرحمٰن نورانی، علامہ محمدبشیرالقادری نورانی، قاری محمدادریس قاضی،مولانامنیر احمدشاکر، مولاناعمرصدیق اشرفی،علامہ صاحبزادہ غلام غوث گولڑوی،علامہ مرزاشوکت حسین مغل، علامہ خلیل احمدنورانی، مولاناعبدالقدیر قادری ، عبدالوحیدیونس ودیگر نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

جے یوپی رہنماؤں نے کہاکہ بلاشبہ حرمین شریفین کے تقدس اور اہمیت کے سبب سعودی عرب کو عالم اسلام کا مرکز اور سعودی فرمانرواکو خادم حرمین شریفین سمجھتے ہیں ،دنیابھرمیں ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے دوسری جانب یمن وہ خطہ ہے جس کے باسیوں کے بارے میں اللہ کے نبی حضوراکرم ﷺ نے فرمایاکہ" یمنی (لوگ) زمین میں اللہ(کے دین) کے مددگارہیں،لوگ انہیں پست کرناچاہتے ہیں ۔

لیکن اللہ انہیں بلند کرناچاہتاہے۔ "تاریخ شاہد ہے کہ یمن کے انتہائی جفاکش،محنتی اور اپنے موٴقف پر ڈٹ جانے والے ہیں۔یہ ملک 1990ء سے پہلے جنوبی اور شمالی یمن میں تقسیم تھا،خونریز جنگیں ہواکرتی تھیں،متحدہونے کے بعد سے ان کے درمیان باربار اختلافات پیداکرنے کی سازشیں کی گئیں اور اب یمن کو تباہ کرنے کے لئے عرب ممالک کو اکسایادیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ یمن پر سعودی عرب کا حملہ بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے، اس وقت صرف سعودی عرب کے ایک سو طیاروں سمیت دیگر14ممالک کے کئی طیارے یمن پر حملہ آور ہیں،یمن پر اس حملے کانہ سعودی عرب کو فائدہ ہوگااور نہ کسی اسلامی ملک کو ،اگر فائدہ ہوگاتو صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کو ہوگا، دوسری جانب ان حملوں کے باعث اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور خلیج میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کے قائدہونے کے ناطے سعودی عرب کو ایسے اقدامات سے بچناچاہیئے جن سے ان کا تشخص مجروح ہوتاہوبلکہ انہیں توایسی پالیسی اختیارکرنی چاہیئے جس سے اسے دنیابھر کے مسلمانوں کی مزیدتائید حاصل ہو۔یادرہے اس جنگ کے نتیجے میں یمن میں جتنے لوگ مارے جائیں گے ،جتنے وسائل بربادہوں گے، جتنے معاشرے تباہ ہوں گے،یہ سب مسلمانوں کا ہی نقصان ہوگا،جس کی جتنی ذمہ داری امریکااور اسرائیل پر عائد ہوگی اتنی ہی اس جنگ میں کودنے والے دیگر ممالک پر بھی ہوگی۔

حقیقت یہ ہیکہ امریکامسلمانوں کو علاقائی اکائیوں اور فرقوں میں تقسیم کرکے اپنے مقاصد حاصل کرناچاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان بھی دانشمندی سے کام لے اور پاک افواج کو صیہونی سازشوں کے نتیجے میں بھڑکائی گئی آگ میں نہ جھونکے، وزیراعظم پاکستان ایک فریق کی بے جاحمایت کے بجائے مصالحانہ کرداراداکریں اور مسلم حکمران اس جنگ کو فرقہ وارانہ تناظرمیں نہ دیکھیں بلکہ عالم اسلام باالخصوص عالم عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کو اور عوامی امنگوں کو محسوس کریں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان کے حکمران یہ نہ بھولیں کہ ماضی میں افغانستان کی جنگ میں مداخلت کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے، دوسری جانب ماضی قریب میں اس قسم کی بمباری سے لیبیا،شام ،عراق اور افغانستان تباہ وبرباد ہوئے اور اب تک ان ممالک میں بحالی نہیں ہوسکی۔پاکستانی حکمران سعودی حکومت پر زوردیں کہ وہ فی الفور حجازمقدس میں مسلم سربراہی کانفرنس بلائے اور ایسے فیصلے کرے جن کے نتیجے میں عالم اسلام تقسیم ہونے سے بچے ،دوسری جانب پاکستانی میڈیابھی اپناموٴثر اور غیرجانبدارانہ کرداراداکرے، جبکہ پاکستان میں سرگرم عمل مذہبی وسیاسی جماعتیں بھی متفقہ لائحہء عمل ترتیب دیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 31/03/2015 - 21:41:28

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں