کراچی ،سی آئی ڈی کے دفترپررینجرز کاچھاپہ، 2افراد کوبازیاب بھی کروایا گیا
تازہ ترین : 1

کراچی ،سی آئی ڈی کے دفترپررینجرز کاچھاپہ، 2افراد کوبازیاب بھی کروایا گیا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31مارچ۔2015ء) سی آئی ڈی کے دفترپررینجرز کاچھاپہ لائنزایریامیں سی آئی ڈی کے سیل پرچھاپہ مارکر2افراد کوبازیاب بھی کروایا گیا،سب انسپکٹرافتخار آرائیں کوحراست میں لے لیا گارڈن میں ایس ایس پی ،سی ٹی آئی ڈی کے دفتر سے دوافراد کوحراست میں لے لیاگیا۔سی ٹی آئی ڈی کے دفتر پرچھاپہ نہیں ماراگیا باہر سے ایک افسر کوحراست میں لیا(راجہ عمرخطاب) متردکہ املاک کی اربوں روپے کی پراپرٹی پرقبضے میں پولیس افسران ملوث ہیں،حساس ادارے تحقیقات کررہے ہیں،ذرائع رینجرز ٹاسک فورس نے رسول لائن میں کارنٹرٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTID)کے سیل پرچھاپہ مارکر پولیس افسران کوحراست میں لے کر2افراد کوبازیاب کروالیا،پولیس افسر کونامعلوم مقام پرمنتقل کردیاجبکہ آئی آئی چندریگر روڈپررینجرز نے میڈیاہاؤسزپرمتعین سیکورٹی گارڈ کے اسلحہ لائسنس بھی چیک کئے۔

اطلاعات کے مطابق رینجرز ٹاسک فورس نے سول لائن میں سی آئی ڈی آفس کا نام تبدیل کرکے سی ٹی آئی ڈی رکھ دیاگیا ہے،اس کے دفتر پرچھاپہ مارکرسب انسپکٹر افتخار آرائیں کوحراست میں لے لیا،ایک اطلاع کے مطابق پولیس افسرکی تحویل سے 2افراد کوبھی بازیاب کروادیاگیا تاہم رینجرزذرائع نے بتایا کہ پولیس افسراغواء برائے تاوان سمیت سنگین وارداتوں میں مطلوب ملزمان کوتحفظ فراہم کرتا تھا۔

تصدیق کے بعد رینجرزٹاسک فورس نے کاروائی کی چھاپے کے وقت سی ٹی آئی ڈی سیل کے تمام دروازے بندکردیئے گئے تھے۔رینجرز ٹاسک فورس نے سب انسپکٹر کوحراست میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا تھا تاہم رینجرز ذرائع نے اس سلسلے میں تفصیلات بتانے سے انکارکیاہے۔ایس ایس پی سی ٹی آئی ڈی راجہ عمرخطاب نے بتایا کہ رینجرز ٹاسک فورس نے سی ٹی آئی ڈی کے دفتر پرچھاپہ نہیں مارا ہے بلکہ دروازے کے باہر سے ایک افسر کوحراست میں لیاہے،تاہم چھاپے کی اطلاع کے بعدڈی آئی جی سی ٹی آئی ڈی عارف حنیف سمیت اعلی افسران سول لائن میں واقع سیل کے دفتر پہنچ گئے۔

سینئرپولیس افسران نے رینجرز نے ٹاسک فورس کی حساس سیل پرچھاپے پرشدیداحتجاج کیا۔پولیس پولیس نے افسران کے مطابق شہر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رینجرز کے اشتراک سے جاری ہے سنگین مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے ملنے والی معلومات کاتبادلہ بھی رینجرز سے کیاجاتا ہے۔رینجرز کواگرپولیس افسرکے خلاف کاروائی کرنی تھی تواعلی افسران کواعتماد میں لے کر کاروائی کرنی چاہیئے تھی۔

پولیس افسران کے مطابق رینجرز کی اس کاروائی پرآج آئی جی سندھ کوآگاہ کیاجائے گا قبل ازیں ذرائع نے بتایا کہ شہرمیں متردکہ املاک کی اربوں روپے کی پراپرٹی پرقبضے میں پولیس کے افسران ملوث ہیں جس کے خلاف حساس ادارے تحقیقات کررہے ہیں اس تفتیش پرکئی افسران چھٹیوں پربھی چلے گئے ہیں ،قبل ازیں رینجرز نے آئی آئی چندریگر روڈ پرمعمول کی سیکورٹی گارڈز کے اسلحے کے لائسنسوں کی چیکنگ کی ۔دریں اثناء بعدازاں رینجرز نے گارڈن ہیڈکوارٹر میں سی ٹی آئی ڈی کے ایس ایس پی لقمان باجوہ کے دفتر پربھی چھاپہ ماراجہاں سے رینجرز نے 2افراد کوحراست میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کیا۔ایس ایس پی لقمان باجوہ ان دونوں چھٹی پرہیں،رینجرز کی جانب سے گرفتاریوں اورچھاپوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

وقت اشاعت : 31/03/2015 - 19:15:30

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں