پاکستان اسٹیل میں مقامی مارکیٹ کیلئے 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز کی تیارکئے ..
تازہ ترین : 1

پاکستان اسٹیل میں مقامی مارکیٹ کیلئے 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز کی تیارکئے جارہے ہیں،ترجمان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2015ء): پاکستان اسٹیل نے مقامی مارکیٹ کیلئے2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز بنانا شروع کردیئے ہیں جس سے مقامی انڈسٹری کو کم سے کم نرخوں پر خام مال کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ ملک کے سب سے بڑے فولاد ساز صنعتی ادارے”پاکستان اسٹیل“ نے مقامی مارکیٹ کی طلب اور مصنوعات کی فروخت میں اضافے کے لئے 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز بنانے کا عمل شروع کردیا گیاہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اسٹیل میں 3 ملی میٹر تا 12 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز تیار کئے جاتے تھے۔ترجمان پاکستان اسٹیل نے بتایا کہ 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائل کا استعمال مقامی گاڑیوں کے ”رم“ و دیگر اقسام کے Forming Sections وغیرہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔جبکہ اسی سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز پائپ انڈسٹری میں ”اسٹیل پائپ“ بنانے میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ انڈسٹری کے لئے 2 ملی میٹر کے خام مال”ہاٹ رولڈ کوائل“ کی مقامی پیداوار نہ ہونے کے باعث بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتے تھے جس پر ڈالرز کی صورت میں ملک کا کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا تھا۔ لیکن اب پاکستان اسٹیل میں 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز کی تیاری سے نہ صرف پاکستان اسٹیل کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی آٹو اور پائپ انڈسٹری کو بھی سستا خام مال میسر آسکے گا۔

ترجمان پاکستان اسٹیل نے مزید بتایا کہ بہترین خام مال کی درآمد سے 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائلز کی تیاری ممکن ہوسکی ہے اور انتظامیہ پاکستان اسٹیل نے مقامی اسٹیل مارکیٹ کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے 2 ملی میٹر سائز کے ہاٹ رولڈ کوائل کی تیاری ممکن بنانے کے لئے اعلیٰ اور عمدہ معیار کا میٹالرجیکل کول اور آئرن اوور بیرون ملک سے درآمد کیا ہے۔

یہا ں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ پاکستان اسٹیل نے 2mm کے ہاٹ رولڈ کوائلز کے ساتھ ساتھ 1.6mm کے Thin Profiles کے ہاٹ رولڈ کوائلز بنانے کی تیاری بھی کرلی ہے۔ انتظامیہ پاکستان اسٹیل کو اُمید ہے کہ مقامی اسٹیل مارکیٹ کی طلب کے مطابق ہاٹ رولڈ کوائل کی تیاری سے ادارے کی اسٹیل مصنوعات کی فروخت اورآمدنی میں اضافے کی نتیجے میں پاکستان اسٹیل کے مالی بحران میں نہ صرف کمی واقع ہوگی بلکہ ادارے کو خود کفیل بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 30/03/2015 - 17:30:43

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں