ایف پی سی سی آئی نے ویمن چیمبر کی نمائش میں بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا، پائیدار ..
تازہ ترین : 1

ایف پی سی سی آئی نے ویمن چیمبر کی نمائش میں بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا، پائیدار ترقی کے لئے تاجرخواتین کی حوصلہ افزائی ضروری ہے ،ایس ایم منیر

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار29مارچ ۔2015ء) ٹی ڈیپ کے سربراہ اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیراور ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ادریس نے کہا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کے بغیرترقی ممکن نہیں۔شہری اور دیہی خواتین کو ترقی کے لئے بھرپور مواقع دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت کے ساتھ نجی شعبہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

حکومت پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے خواتین کی ہر ممکن حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔ویمن چیمبر کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی نمائش کی بھرپور مدد کی جائے گی کیونکہ ایسی نمائشوں سے خواتین کو با اختیار بنانے میں مدد ملے گی ۔انھوں نے یہ بات ویمن چیمبر کی جانب سے انکے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایس ایم نصیر، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرمیاں اکرم فرید، ویمن چیمبر کی صدر ڈاکٹر ذکیہ ہاشمی، بانی صدر ثمینہ فاضل اور دیگر بھی موجود تھے۔

ایس ایم منیر اور میاں ادریس نے کہا کہ حکومت نے صنفی مساوا ت کے لئے متعدداقدامات کئے ہیں جبکہ خواتین کی فلاح و بہبود اور انکے کاروبار کے فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی لی جا رہی ہے۔خواتین کی استعداد میں اضافہ، مسائل کے حل اور سازگارماحول اور یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ نجی شعبہ بھی آگے آئے۔ ہم عورتوں کے لئے خوشحال اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں جس کے لئے انکی مصنوعات کو اندرون وبیرون ملک روشناس کروا نے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

ہم انھیں نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد جبکہ شہری خواتین کے ساتھ دیہی ہنرمند خواتین کو مواقع دینگے۔ خواتین کو زیادہ محنت کے باوجود مردوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔قبل ازیں ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر نائمہ انصاری نے شرکاء کو نمائش کے متعلق پریزینٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش خریداری اور تفریح کے علاوہ سیکھنے، تجربہ حاصل کرنے اور نئے روابط استوار کرنے کا نادر موقع ہوگاجس میں ملک بھر اور سارک ممالک کی تاجر خواتین اور متعدد سرکاری و نجی ادارے شرکت کر رہے ہیں۔

یہ نمائش ہاتھ سے تیار کئے گئے ملبوسات، دستکاری، سجاوٹ، زیورات، فرنیچر، قیمتی و نیم قیمتی پتھر، پرس، موبائل کور، اور کھانے کی اشیا کا کاروبار کرنے والی خواتین کو اپنی مصنوعات روشناس کروانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد دے گی۔

وقت اشاعت : 29/03/2015 - 22:23:52

اپنی رائے کا اظہار کریں