سعودی عرب،یمن کے حوالے سے حکومت مکمل مشاورت اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر کوئی ..
تازہ ترین : 1

سعودی عرب،یمن کے حوالے سے حکومت مکمل مشاورت اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ کرے ، مولانا فضل الرحمن ،

فوج بھیجنے کا معاملہ نازک ہے،موجودہ صورتحال میں مسلم امہ کو بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ایم کیو ایم سے اختلافات کے باوجود اعتدال سے کام لے رہے ہیں،پیر پگارا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو

کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار29مارچ ۔2015ء)جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوالے سے حکومت کو مکمل مشاورت اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، فوج کو بھیجنے کا معاملہ نازک ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پیرپگارا نے مولانا فضل الرحمن کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کے معاملے میں حکومت پر دباوٴ ہے تو فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ہے اسے مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس جنگ کو شیعہ سنی کی جنگ بنانا غلط ہے یہ امریکی پالیسیو ں کا حصہ ہے امریکی پالیسیاں کے تحت ہی جنگ کو فرقہ وارانہ بنایا جارہا ہے ، حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی باتیں کرنے اپنے حدود میں رہیں موجودہ صورتحال میں مسلم امہ کو بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ہمارا تاریخی دوستی اور عقیدت سے بالاتر ہے مولانا نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر انتہائی احتیاط کرنا ہوگا ، افغانستان کے مسئلے پر بھی پاکستان الجھایا گیا تھا، پاکستان اسلامی دنیا کے ممالک کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے عرب ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے معاہدے کے مطابق وہ کچھ بھی کریں یہ ان کا معاملہ ہے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کو مدارس کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی جے یو آئی کے سربراہ ایک اور سوال کے جوا ب پر کہا کہ ایم کیو ایم سے اختلافات کے باوجود اعتدال سے کام لے رہے ہیں ضرورت پڑی توان سے بھی ملاقات کی جاسکتی ہے پیرپگارا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اس ملاقات میں ملک صورتحال کے علاوہ سعودی عرب اور یمن کے مابین کشیدگی پر غور کیا گیا انہوں نے کہا کہ میرے والد مفتی محمود سے تعلقات تھے جنہیں زندہ کرنے کے لیے مولانا کے گھر آئے ہیں اس ملاقات میں بہت مزا آیا، دو ڈھائی گھنٹے کی اس ملاقات میں پاکستان کے حالات کے علاوہ بین الاقوامی حالت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 29/03/2015 - 20:11:17

اپنی رائے کا اظہار کریں