کراچی کے شہری تعلیم پر الیکشن کو فوقیت دینے کو مسترد کرتے ہیں؛ صدرپاسبان پاکستان ..
تازہ ترین : 1

کراچی کے شہری تعلیم پر الیکشن کو فوقیت دینے کو مسترد کرتے ہیں؛ صدرپاسبان پاکستان الطاف شکور

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28مارچ2015ء)پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری تعلیم پر الیکشن کو فوقیت دینے کو مسترد کرتے ہیں۔ضمنی الیکشن میٹرک کے لاکھوں طلباء اور طالبات کے مستقبل سے زیادہ اہم نہیں ہیں ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نویں اور دسویں کے امتحانات کے شیڈول کو تبدیل کرنے کی بجائے NA-246 کے ضمنی الیکشن کے شیڈول کوتبدیل کیا جائے۔

ضمنی الیکشن کی وجہ سے میٹرک امتحانات کے شیڈول میں ردوبدل کے خلاف کراچی پریس کلب پر اسکول کے بچوں، والدین پاسبان کے ذمہ داران اور کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر الطاف شکور نے کہا کہ جب تک حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم کو اولین ترجیح حاصل نہیں ہوگی معاشی ترقی کے ثمرات سے اٹھارہ کروڑ عوام محروم رہے گے ۔ملک بھر اور باالخصوص سندھ کے تعلیمی شعبے میں بدعنوانی، رشوت ستانی اور سیاسی مداخلت نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران ملک میں تعلیم کے فروغ کیلئے کبھی مخلص نہیں رہے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نوجوان نسل تعلیم یافتہ بن گئی تو وڈیروں، فیوڈلز، بدعنوان بیوروکریسی، پیروں اور میروں کیلئے پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ ملک میں تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے ہی چند خاندان جنہوں نے حریت پسندوں کو کچلنے میں برطانوی سامراج کی خدمت کی تھی ملک پر حکمرانی کررہے ہیں۔

اب اس کرپٹ مافیا کو سیاسی میدان سے بے دخل کئے جانے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں کام کرنے والی نوجوان افرادی قوت کیلئے ضلعی سطح پر ملک بھر میں زرعی اور ٹیکنیکل کالج قائم کئے جائیں ملک کی معاشی ترقی کیلئے جس کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ٹیکنیکل تعلیمی کورسز اور ڈپلومہ دینی مدارس میں بھی متعارف کرائیں جائیں تاکہ اسکول اور دینی مدرسوں کے نظام تعلیم کے درمیان قائم فاصلہ کو ختم کیا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معاشی گلوبل مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے ملک کی فضا مکمل طور پر تیار ہے جس کیلئے سنجیدگی سے تعلیمی انقلاب پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر پاسبان کے جنرل سیکریٹری عثمان معظم نے کہا کہ ضمنی الیکشن کیلئے امتحانی شیڈول کو متاثر کرنا سول سوسائٹی کیلئے ناقابل قبول ہے۔انگوٹھا چھاپ کلچر کو تعلیم پر فوقیت نہیں دی جاسکتی ۔

انگوٹھا چھاپ سرکار صرف جہالت کے فروغ سے ہی قائم رہ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قلم پرانگوٹھے کو فوقیت دینا حکمرانوں اور بیورو کریسی کی غلط ترجیحات ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہی معاشرہ ترقی کرسکتا ہے جہاں قلم و علم کو ہر شے پر برتری حاصل ہو۔ ضمنی الیکشن کے انعقاد کیلئے میٹرک کے امتحانات کی تاریخ میں ردوبدل قلم پر انگوٹھے کی جاگیردارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ارباب اختیار قوم کو تعلیم سے دور رکھ کر وڈیرہ شاہی نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیورو کریسی کو معلوم نہیں تھا کہ کراچی میں ہر سال امتحانات کس مہینے میں منعقد کئے جاتے ہیں ؟ پاسبان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی ترجیحات میں تعلیم کو ہر شے پر مقدم رکھیں

وقت اشاعت : 28/03/2015 - 18:52:52

اپنی رائے کا اظہار کریں