رواں مالی سال کی پانچویں مانیٹری پالیسی کا اعلان،شرح سود 8فیصد مقرر،
تازہ ترین : 1

رواں مالی سال کی پانچویں مانیٹری پالیسی کا اعلان،شرح سود 8فیصد مقرر،

اوسط مہنگائی کی شرح 4سے5فیصد کے درمیان محدود رہنے کی توقع،زر ِمبادلہ کی رقوم کی آمد اور تیل کی کم قیمتوں کی بنا پر بیرونی شعبے کا منظر نامہ بہتر ہوتا جارہا ہے، پہلی ششماہی کے دوران حکومت کی مالیاتی خسارے پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے تاہم ریونیو کی وصولی کی شرح کچھ سست ہے؛اسٹیٹ بنک

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21مارچ۔2015ء) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی اظہاریوں میں بہتری اور مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی کے باعث شرح سود میں 50بیسز پوائنٹس کمی کر دی ہے جس کے بعد بنیادی شرح سود13سال کی کم ترین سطح 8فیصد پر آگئی ہے ، گذشتہ زری پالیسی میں شرح سودمیں100بیسز پوائنتس کی کمی کی گئی تھی ۔ مرکزی بینک نے رواں مالی سال کی پانچویں زری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اوسط مہنگائی کی شرح 4سے5فیصد کے درمیان محدود رہنے کی بھی پیش گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ زر ِمبادلہ کی رقوم کی آمد اور تیل کی کم قیمتوں کی بنا پر بیرونی شعبے کا منظر نامہ بہتر ہوتا جارہا ہے ، مالی سال 15ء کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کی مالیاتی خسارے پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے تاہم ریونیو کی وصولی کی شرح کچھ سست ہے۔

مرکزی بینک آ ف پاکستان کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ زری پالیسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ہفتہ کو اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 24مارچ 2015ء سے پالیسی ریٹ کو 50بیسس پوائنٹس گھٹا کر 8.5فیصد سے 8.0فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔زری پالیسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران معاشی اظہاریوں کی زیادہ تعداد بہتری کی سمت بڑھی ہے۔ عمومی گرانی بلحاظصارف اشاریہ قیمت (Headline CPI inflation) مسلسل نیچے کی طرف جارہی ہے اور توقع ہے کہ 8.0فیصد کے سالانہ ہدف سے کافی نیچے ہو گی۔

مالی سال 15ء کے لئے اوسط گرانی بلحاظصارف اشاریہ قیمت کے بارے میں اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین پیش گوئی 4 سے 5 فیصد ہے۔ ساتھ ہی حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 14ء کی کارکردگی سے تجاوز کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ حال ہی میں زر ِمبادلہ کی رقوم کی آمد اور تیل کی کم قیمتوں کی بنا پر بیرونی شعبے کا منظر نامہ بہتر ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 15ء کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کی مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششیں بھی درست راستے پر ہیں، گو کہ محاصل کی وصولی کی نمو کچھ سست ہے۔

مارچ 2015ء کے آئی بی اے ایس بی پی سروے پر مبنی اشاریوں کے مطابق صارفین کے اعتماد اور موجودہ معاشی حالات میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ موجودہ معاشی استحکام اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے تاکہ معیشت میںآ نے والی بہتری کو پائیدار بنایا جاسکے۔زری پالیسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ رجحان کے مطابق گرانی میں اعتدال وسیع البنیاد ہے اور غذائی و غیر غذائی گرانی کم ہورہی ہے۔

قوزی گرانی (core inflation)کے دونوں پیمانوں، غیرغذائی غیر توانائی (NFNE) اور تراشیدہ اوسط (Trim-Mean) میں بھی کمی آرہی ہے تاہم گرانی میں بالعموم اور اجناس کی قیمتوں میں بالخصوص موجودہ کمی کی وجہ سے مجموعی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے مالی سال 15ء سے آگے گرانی کے حوالے سے مضمرات ہوسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر اشیا سازی (LSM)کو جولائی تا جون مالی سال 15ء میں 2.2فیصد بڑھنے کے بعد سہارا ملنے کی توقع ہے جس کی وجہ پالیسی ریٹ میں حالیہ کٹوتی اور خام مال کی کم قیمتیں ہیں جو اشیا سازی کے شعبے کو بڑھاوا دے سکتی ہیں۔

شعبہ زراعت میں خریف کی بڑی فصلوں(خصوصاً کپاس اور چاول) کی بہتر پیداوار اور موجودہ ترغیبات کے ہمراہ ربیع کی فصل گندم کے لیے سازگار موسمی حالات کے پیش نظر جی ڈی پی نمو مالی سال 14ء سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ما نیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق کارکنوں کی بھرپور ترسیلات ِزر اور گرتی ہوئی درآمدی نمو کی بنا پر مالی سال 15ء کے جولائی تا فروری کے عرصے میں جاری کھاتے کا خسارہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کم ہوگیا ہے۔

یہ بہتری برآمدات کی پست کارکردگی کے باوجود آئی ہے۔ بہرحال درآمدات پر پست قیمتوں کے اثر اور کثیر فریقی رقوم کی آمد مناسب طور پر جاری رہنے کے باعث بیرونی شعبے کا منظر نامہ مستحکم ہے۔ یہ کیفیت زر مبادلہ کی مارکیٹکے استحکام اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی صورت میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری مالی سال 15ء کے دوران خالصملکی اثاثے کم ہوئے اور خالصبیرونی اثاثے بڑھے جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے رجحانات کے مقابلے میں خوش آئند ہے۔

27 فروری 2015ء تک زر وسیع (M2) میں سال بسال نمو 11.5فیصد تھی جو پچھلے پانچ برسوں کی اوسط نمو 13.6فیصد سے کم ہے۔ اس سست رفتاری کی بڑی وجہ بینکاری نظام کے خالصملکی اثاثوں میں کمی ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 15ء کے دوران نجی شعبے کو قرضے کی نمو پست یعنی 158.9ارب روپے رہی جبکہ مالی سال 14ء کی اسی مدت میں298.3ارب روپے تھی۔ چنانچہ یہ زری اظہاریے بڑی حد تک گرتی ہوئی گرانی کے پس پشت موجود رجحانات کی عکاسی کررہے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 21/03/2015 - 22:21:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں