جمہوریت کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں ‘خطرے کو ختم کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے ..
تازہ ترین : 1

جمہوریت کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں ‘خطرے کو ختم کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے سیاستدانوں اور ملکی اداروں کو ایک صف میں کھڑے ہونا پڑے گا‘تمام ادارے اپنے دائرے کار میں رہتے ہوئے کام کریں،سینٹ کے نومنتخب چیئرمین میاں رضا ربانی کی بانی پاکستان قائد اعظم کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات چیت

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2015ء)سینٹ کے نومنتخب چےئرمین میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ جمہوریت کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں اس خطرے کو ختم کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے سیاستدانوں اور ملکی اداروں کو ایک صف میں کھڑے ہونا پڑے گا،اس کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ تمام ادارے اپنے دائرے کار میں رہتے ہوئے کام کریں،وہ اتوار کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے،اس موقع سنیٹر سعید غنی،صوبائی مشیر راشد حسین ربانی،صوبائی معاون خصوصی وقار مہدی،اصغر حسین بہاری ودیگر بھی موجود تھے،میاں رضا ربانی نے مزار قائد پر موجود کتاب میں قائداعظم محمد علی جناح سے متعلق تاثرات بھی درج کئے،ایک سوال پر میاں رضا ربانی نے کہا کہ اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اگر ہم درست سمت میں نہ گئے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور آنے والی نسلوں کے لئے مشکلات ہوں گی،انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت اندرونی وبیرونی خطرات کو سامنا ہے اور اس مرحلے پر یہ ضروری ہے کہ مسلح افواج اور سیاسی ادارے ملکر کردار ادا کریں،انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام اور جمہوری قوتوں میں اتحاد ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہو،اس سلسلے میں اگر لرزش پائی گئی تو ملک وقوم کو نقصان ہوگا،انہوں نے کہا کہ قائداعظم سے میرا ایک یہ بھی تعلق ہے کہ میرے والد میاں عطاء ربانی قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی تھے اور جس جہاز میں قائداعظم پاکستان آئے تھے اسی ائیرفورس کے جہاز میں میرے والد پاکستان آئے تھے،انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وہ چئیرمین سینٹ کے حیثیت سے زیادہ سے زیادہ قانون سازی کریں گے اور جو بھی کرار دار یا بل پاس ہونے کے لئے سینٹ میں آئیں گے اس میں وہ آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے،میرے کوشش ہوگی کہ عام آدمی کے بھلائی اور قومی سلامتی کو سب سے زیادہ توجہ دی جائے،انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ یہ بات درست ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں سے احساس محرومی ختم نہیں ہے اس میں وفاق اور صوبوں دونوں پر زمہ داری عائد ہوتی ہے، انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ چونکہ اب وہ سینٹ کے چئیرمین ہوچکے ہیں،لہذا اگر 22ویں آئینی ترمیم لائی جاتی ہے تو وہ جو ان کا چئیرمین کی حیثیت سے کردار ادا کریں گے،اگر چہ اس ترمیم کے بارے میں ان کے رائے مختلف ہوسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سینٹ کے انتخابات کے بارے میں صدارتی آرڈینینس اب واپس ہوچکا ہے،لہذا ضرورت اس پر کی ہے کہ سینٹ میں فوری انتخابات کرائے جائیں،میاں رضاربانی نے کہا کہ صوبوں سے ملنے والے قدرتی وسائل پر سب سے پہلے متعلقہ صوبے کا حق ہے لہذا آئین کے آرٹیکل172 کے تحت صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہئیے اور اس سلسلے میں وفاق کو بھی فراق دلی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے،۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ یقین دلاتا ہوں کے میری بھرپور کوشش ہوگی کہ سینٹ کی کارروائی غیر جانبدارانہ طریقے سے چلاوٴں اور محنت کشوں سمیت عام آدمی کے جو مسائل ہیں انہیں حل کرنے میں سینٹ بھرپور کردار ادا کرے گی،انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جو فوج کا آپریشن جاری ہے وہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک منتقی انجام تک پہنچنا چاہئیے،انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ سینٹ میں جو بھی موشن پیں کئے جائیں،اس میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے بلکہ فوری طور پر ایوان میں پیش کیا جائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/03/2015 - 20:12:19

اپنی رائے کا اظہار کریں