گستاخ رسول کے مرتکب کو قرار واقعی سزا دینے کی توقع رکھنا وقت اور توانائی کا ضیاع ..
تازہ ترین : 1

گستاخ رسول کے مرتکب کو قرار واقعی سزا دینے کی توقع رکھنا وقت اور توانائی کا ضیاع ہی ہو سکتا ہے، مولاناتنویر الحق تھانوی،

فرنگی قانون کی رو سے سزا یافتہ ممتاز قادری کی سزائے موت کو غیر مشروط طور پر منسوخ کرکے فی الفور بری بعدازاں رہا کیا جائے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14مارچ۔2015ء)ممتاز عالم دین مولانا تنویر الحق تھانوی نے کہا ہے کہ فرنگی قانون کی رو سے سزا یافتہ ممتاز قادری کی سزائے موت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لازمی تقاضے اور کلمہ گو اکثریتی مسلمانوں کے متفقہ اور مسلمہ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کی حساسیت کے پیش نظر غیر مشروط طور پر منسوخ کرکے فی الفور بری بعدازاں رہا کیا جائے ۔

یہ بات انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہی ان کا مزید کہنا تھا کہ شدید ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ گستاخ رسول کا واضح تعین بھی کیا جانا چاہیے کیونکہ غیر منقسم ہندوستان سے جاری شدہ مستند اور حتمی فتوے مطبوع شکل میں قیام پاکستان کے بعد مزید تیزی اور شدت کے ساتھ ان کے تسلسل کی صورت میں بڑے بڑے صحیح العقیدہ علماء و مشائخ اور شہرئہ آفاق جامعات و دارلعلوم چلانے والے پابندشریعت و سنت حضرات تک جن میں ایک کثیر تعداد ایسی بھی ہے جنہوں نے روضہ رسول ﷺ پر خدمت حدیث میں عمریں گزاردیں حتیٰ کہ مفتی اعظم پاکستان اور خطیب پاکستان بھی تسلیم شدہ گستاخان رسول کے زمرے میں آجاتے ہیں پاکستان کے جملہ مقتدر اور قانون سازو پالیسی ساز اداروں کے ماہرین اور ارباب فکر و نظر کے لیے دعوت فکر ہے کہ اس با ت کا قوی اندیشہ ہو سکتا ہے کہ ممتاز قادری عاشق رسول ﷺ کا لائق تحسین اقدام کہیں سند اور قانون کا درجہ حاصل نہ کر جائے میری تجویز اس سلسلے میں یہ ہے کہ جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سن 77کی تحریک اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق مرحوم کی فراخدلی کے نتیجے میں غدار وطن کی اصطلاح زیر زمین دفن ہو چکی ہے اسی طرح علمی و تحقیقی سمجھ اور کم سمجھ کے باعث مطبوعہ فتوؤں پر نظر ثانی کرکے گستاخ رسول کی خانہ ساز اصطلاح بھی پاکستان کی سا لمیت کی خاطر ختم کردینی چاہیے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رومن عدالتوں سے گستاخ رسول کے مرتکب کو قرار واقعی سزا دینے کی توقع رکھنا وقت اور توانائی کا ضیاع ہی ہو سکتا ہے بعض اسلام پسندوں اور مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے آپس میں دست و گریباں رہنے کے شوق اور دوکانداری کے باعث اسلامی نظام بالخصوص سن 77کی تحریک کا نظام مصطفی منزل مقصود تک ہی نہ پہنچ سکا تب بھی شاید گستاخ رسول سمیت نہ معلوم کتنے قسم کے گستاخان کا قرار واقعی بندوبست ہوجاتا۔

وقت اشاعت : 14/03/2015 - 22:29:27

اپنی رائے کا اظہار کریں