جدت ارتقاء کا بنیادی جز ہے اور جدیدیت ملک کی خوشحالی اور ترقی میں ایک اہم و فعال ..
تازہ ترین : 1

جدت ارتقاء کا بنیادی جز ہے اور جدیدیت ملک کی خوشحالی اور ترقی میں ایک اہم و فعال کردار اد ا کرتی ہے، انجینئر محمد عادل عثمان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14مارچ۔2015ء) سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا اٹھارواں کانوکیشن روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی، تعلیمی،کاروباری شخصیات کے علاوہ معززین ، فیکلٹی و طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں تقریباََ گیارہ سو (1100) طلباء و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں اور امتیازی نمبروں سے اول ، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں بالترتیب طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے تقسیم کئے گئے۔

اس یادگار و پر مسرت موقع پر خطاب کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے چانسلر انجینئر محمد عادل عثمان نے کہا کہ جدت ارتقاء کا بنیادی جز ہے اور جدیدیت ملک کی خوشحالی اور ترقی میں ایک اہم و فعال کردار اد ا کرتی ہے۔ سرسید یونیورسٹی بین الاقوامی معیار کا ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جہاں کے فارغ التحصیل پروفیشنل اور ہنر مند انجینئرز ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے اور انھیں حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرسید یونیورسٹی میں دورِ حاضر کے تقاضوں و ضروریات کے مطابق طلباء کو جدید علوم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے گریجویٹس نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ دینا کے بیشتر ممالک میں اپنی قابلیت و مہارت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔انھوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ ہر کام کو ایک چیلینج سمجھ کر کریں اور اپنی فکر و سوچ کو مسائل کا حل تلاش کرنے پرمرکوز کریں۔

ہمیں اپنے انجینئرز پر پورا اعتماد ہے اور ان سے کافی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ ملک کے خوشحال مستقبل کے لیے اپنی قابلیت اور مہارت کو بروئے کار لائیں گے او ر قوم کی بہتری کے لیے قدرتی وسائل و ذخائر کو دریافت کرنے کے عمل کو جاری رکھیں گے تاکہ انھیں بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے ۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید حسن رضوی نے اس موقع پر کہا کہ سرسید یونیورسٹی میں مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نئی نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جاتی ہیں۔

گزشتہ سال تین نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی گئیں جن میں سافٹ وئیر انجینئرنگ، بائیو انفارمیٹکس اور آرکیٹکچر شامل ہیں جب کہ اس سال ملک کو درپیش توانائی کے بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹریکل کا شعبہ متعارف کرا یا گیا۔قبل ازیں رجسٹرار سید ابرار علی نے ڈگری حاصل کرنے والے طلباء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اعلیٰ تعلیم معاشی بہتری اور خوشحالی کی ضامن ہے۔

اول پوزیشن حاصل کرنے پر طلائی تمغہ حاصل کرنے والوں میں امبر اشرف (شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد عبید اشرف (شعبہ الیکٹرانک انجینئرنگ)، وردا علی شاہ (شعبہ ٹیلی کمیونیشن انجینئرنگ)، انعم وسیم (شعبہ بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، محمد عقیل احمد (شعبہ سول انجینئرنگ) اور محمد احسان شیخ (شعبہ کمپیوٹر سا ئنس)۔جب کہ دوئم پوزیشن پر چاندی کا تمغہ پانے والوں میں اریبہ اسلم (شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد حسن بشیر (شعبہ الیکٹرانک انجینئرنگ)، سعدیہ پروین (شعبہ ٹیلی کمیونیشن انجینئرنگ)، حنا (شعبہ بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، کاشان خان (شعبہ سول انجینئرنگ) اور رابعہ خان (شعبہ کمپیوٹر سا ئنس)۔

سوئم پوزیشن پر کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں محمد عثمان غنی (شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ)، حیدر علی (شعبہ الیکٹرانک انجینئرنگ)، حرا طارق (شعبہ ٹیلی کمیونیشن انجینئرنگ)، ملیحہ محبوب (شعبہ بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، جویریا سلیم (شعبہ سول انجینئرنگ) اور یاسر علی (شعبہ کمپیوٹر سا ئنس)۔

وقت اشاعت : 14/03/2015 - 17:15:44

اپنی رائے کا اظہار کریں