تھرپارکر کے ریلیف انسپکٹنگ جج نے تھر میں ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹ مرتب ..
تازہ ترین : 1

تھرپارکر کے ریلیف انسپکٹنگ جج نے تھر میں ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹ مرتب کرلی

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12مارچ۔2015ء ) تھرپارکر کے ریلیف انسپکٹنگ جج / سینئر سول جج میاں فیاض ربانی نے تھر میں ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے ، جس میں ریورس آسموسز ( آر او ) ٹیکنالوجی کے ذریعہ میٹھے پانی کے حصول کو تھر میں ایک انقلاب سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ تاہم رپورٹ میں یہ تجاویز بھی دی گئی ہیں کہ بڑے واٹر ٹینک تعمیر کیے جائیں اور محدود پیمانے پر تھرپارکر میں کاشت کاری کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔

یہ رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے اور اس کی ایک کاپی چیف سیکرٹری سندھ کو بھی ارسال کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلع تھرپارکر میں ریلیف سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے وقتاً فوقتاً کئی دورے کیے گئے ، جن میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مختلف گوٹھوں میں آر او واٹر فلٹریشن پلانٹس کو تربیتی یافتہ مقامی لوگ موثر طور پر چلا رہے ہیں اور مقامی آبادی کو میٹھا پانی میسر ہو رہا ہے ۔

یہ پانی وہ اپنی تمام ضروریات کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور اپنے مویشیوں کو بھی پلاتے ہیں ۔ تاہم ان آر او پلانٹس سے بہتر استفادے کے لیے کچھ تجاویز پر عمل درآمد کیا گیا ہے ۔ ہر گاوٴں میں لوگ آر او پلانٹس کے قریب واقع ایک چھوٹے ٹینک سے پانی لے رہے ہیں ۔ لوگوں کو موثر طور پر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر گاوٴں میں ہائی سروس ریزروائر ( ایچ ایس آر ) کمیونٹی ٹینکس تعمیر کیے جائیں اور انہیں قریبی آر او پلانٹس سے منسلک کیا جائے تاکہ لوگ اپنے گھروں کے قریب پانی حاصل کر سکیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے ضلع تھرپارکر میں کافی مقدار میں زیر زمین پانی موجود ہے اور آر او پلانٹس سولر انرجی سے چل رہے ہیں لیکن پانی کے چھوٹے ٹینک بھر جانے سے یہ آر او پلانٹس بند کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ توانائی مفت ہے اور آر او پلانٹس زیادہ پانی دے سکتے ہیں لہذا آر او پلانٹس کے قریب بڑے اسٹوریج ٹینک تعمیر کیے جائیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سبزیاں اور اناج وغیرہ اگانے کے لیے ” ڈرپ اریگیشن “ سسٹم پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے ۔

رپورٹ میں سوبھارو شاہ نامی گاوٴں کی مثال دی گئی ہے ، جہاں لوگ آر او پلانٹس کے پانی سے کاشت کاری کر رہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاشت کاری کے ساتھ ساتھ ضلع میں شجرکاری بھی کی جا سکتی ہے ۔ اس سے ماحول پر مثبت اثر پڑے گا ۔ بارشیں زیادہ ہوں گی اور زمین زرخیز ہو گی ۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ہر گاوٴں میں ٹوائلٹس اور واش رومز بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں تاکہ لوگ صحت مند زندگی گزار سکیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ضلع تھرپارکر کے ہر گاوٴں میں آر او پلانٹس نصب کیے جائیں اور اس کے لیے حکومت اور این جی اوز مل کر کام کر سکتی ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/03/2015 - 17:39:16

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں