میاں محمد نواز شریف کے مدبرانہ فیصلے سیاسی نورادان کی سمجھ سے بالا ہیں،علی اکبر ..
تازہ ترین : 1

میاں محمد نواز شریف کے مدبرانہ فیصلے سیاسی نورادان کی سمجھ سے بالا ہیں،علی اکبر گجر

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ۔2015ء) پاکستان کی سیاست کو دباؤ سے نکالنے کے لئے میاں محمد نواز شریف کے مدبرانہ فیصلے سیاسی نورادان کی سمجھ سے بالا ہیں․ سینیٹ چےئرمین کے بارے میں وزیر اعظم کا فیصلہ سیاسی مخالفین کی سمجھ میں نہیں آئے گا لیکن قوم کواس فیصلے کے مثبت ثمرات بہت جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے․ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی نائب صدر علی اکبر گجر نے سینیٹ کے چےئرمیں کے متفقہ انتخاب کو پارلیمنٹ کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا پارلیمانی نظام آمریت کی زنجیروں سے مکمل آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے․ملک کی دو بڑی جماعتوں میں پائی جانے والی افہام و تفہیم سے پاکستان کی جمہوریت کو مفادات کی سیاست سے نجات ملنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں․ پارٹی سیاست پر قومی مفادات کوترجیح دے کر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی روح کو نئی تازگی دی ہے․جمہوریت کے دوام کے لئے متفقہ چےئرمین سینیٹ لانے سے پاکستان کی سیاست کو نئی زندگی ملے گی․ چےئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے وزیر اعظم پاکستان کے مدبرانہ فیصلے نے سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے․ پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے سینیٹ کے چےئرمین کے متفقہ انتخاب کو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی عظیم سیاسی بصیرت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے ذاتی اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی سیاست کو نئی جہت عطا کی ہے ․پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کہا کہ ہمارے قائد نے سینیٹ کے چےئرمین کے انتخاب میں ملک کی دوسری بڑی جماعت کی تجویز کو من و عن تسلیم کر کے خود کو قائد اعظم کا حقیقی جانشین ثابت کردیا ہے جن کے سامنے صرف ملک و قوم کا مفاد رہتا تھا․پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے پارٹی مفادات کی بجائے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کو مقدم رکھ کر سیاست کی تاریخ میں سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے․ میاں محمد نواز شریف کی دوراندیشی سے ملک کو مفادات کی سیاست سے چھٹکارہ دلانے کا آغاز کر دیا ہے․ آنے والے سالوں میں ایوان بالا اور ایوان زیریں کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر قومی مفادات کی قانون سازی کر سکیں گے․پاکستان کی جمہوریت کو درست سمت میں سفر کرنے کا موقع ملے گا اور جمہوری عمل بدستور بلوغت کی منزلیں طے کرکے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا․ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اپنی حقیقی روح کے ساتھ اپنا کردار اداکرنے کے قابل ہوگئی ہے․

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/03/2015 - 16:38:23

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں