رینجرز والے خود بغیر اسلحہ لائسنس کمبل میں لیکر نائن زیرو آئے، الطاف حسین کا الزام
تازہ ترین : 1

رینجرز والے خود بغیر اسلحہ لائسنس کمبل میں لیکر نائن زیرو آئے، الطاف حسین کا الزام

لندن،کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ۔2015ء)ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نائن زیرو پر کس قانون کے تحت چھاپہ مارا گیا ہے، انہوں نے رینجرز پر الزام لگایا ہے کہ نائن زیرو پر ملنے والا اسلحہ رینجرز خود کمبل میں لیکر آئے ہیں اور میڈیا کو دکھایا ہے،ہمارا اس عجیب و غریب اسلحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میری بہن عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار رینجرز ہو گی،نائن زیرو پر کس قانون کے تحت کارروائی کی گئی ،وقاص کے قتل پر پردہ ڈالنے والوں پر اللہ کاعذاب نازل ہوگا،میں بکتا نہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو میری شکل پسند نہیں، رابطہ کمیٹی فوری طور لائحہ عمل بنائے اور مجھے ایم کیو ایم سے علیحدہ کردے۔

اگر نائن زیرو پر دہشت گرد موجود تھے تو رابطہ کمیٹی کو خود ہی بتا دینا چاہیے تھا ،کسی سے ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو دوسروں کو نہ پھنساتے ۔جو غلطی کر بیٹھے تھے اور پولیس کو مطلوب تھے انہیں نائن زیرو کو مصیبت میں نہیں ڈلوانا چاہیے تھا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روزلندن سے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

الطاف حسین نے کہا ہے کہ کارکن صبر وتحمل سے میری بات سنیں۔ریاست کے اہم ادارے نائن زیرو پر جو ہوا وہ کس قانون کے تحت ہوا،میری بڑی بہن سائرہ بیگم کے گھر پر رینجرز نے چھاپے مارے اور اس دوران 60 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،کیا تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر چھاپے مارنے کا سنا ہے ،آپریشن صرف ایم کیو ایم کے خلاف کیوں کیا جارہاہے،رینجرز کے پاس یقینا دیگر سیاسی جماعتوں کا ریکارڈ بھی موجود ہوگا،کراچی میں ایم کیو ایم کے علاوہ بھی کسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے ،آج کس قانون کے تحت نائن زیرو پر کارروائی کی گئی ،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نے کہا کہ تھا کہ کراچی میں ہر سیاسی جماعت کے عسکری ونگ ہیں،پاکستان کے کچھ لوگ قانون کی زد میں اور کچھ قانون کی ضد میں آتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ہر قسم کی ظلم کی اجازت ہے،پاکستان میں کچھ لوگ قانون سے ماورا ہو جاتے ہیں،ایم کیو ایم ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے ،ہم نے فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا،میرا سوال ہے کہ کیا الطاف حسین مسلمان نہیں ہے؟کیا میں پاکستانی نہیں ؟گھروں میں گھس کر جوزبان استعمال کی جاتی ہے بیان نہیں کر سکتا ،ہمارے کارکنوں پر تشدد کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں،ہمارے ہزاروں کارکنوں کو شہید کر دیا گیا ہے ،ہمارے ساتھ ظلم و بربریت کی انتہائی کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی کارکنوں کو صبر کرنے کی تلقین کی ہے ،ہم نے کہا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے فوجی آپریشن کیا جائے ،رینجرز نے الکرم سکوائر کامحاصرہ کر لیا ہے ، رینجرز والے بغیر لائسنس اسلحہ کمبل میں لیکر نائن زیرو میں داخل ہوئے ،ہمارے پاس تمام اسلحہ لائسنس یافتہ ہے اس عجیب و غریب اسلحے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے،اگر یہ اسلحہ ہمارا ہوتو کیا ہم اسے نائن زیرو پر رکھتے۔

میں صبح سے انتظار کررہا تھا کہ رینجرز نائن زیرو پر چھاپے کا اپنا موقف دے ،نائن زیرو کے اطراف میں رینجرز کو جو بھی نوجوان ملا انہیں بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہے ،وقاص ایک انتہائی باشعور اور پڑھا لکھا نوجوان تھا ،رینجرز نے کہا کہ انہوں نے وقاص کو گولی نہیں ماری ،وقاص سمیت ہر شہید کا خون ضرور رنگ لائے گا،رینجرز والوں سن لو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے،وقاص کے قتل پر پردہ ڈالنے والوں اللہ کا عذاب نازل ہوگا،رینجرز والے بتائیں میری بہن کے گھر پر چھاپہ کیوں مارا ہے؟،میری بہن دل کی عارضہ میں مبتلا ہیں اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار رینجرز ہوں گے،رینجرز والوں آپ کے پاس اختیارات ہیں اللہ کے واسطے انصاف کرو،پاکستان میں قومی شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جارہا ہے ،ہیومن رائٹس کے باضمیر لوگ حقوق کی پامالی کا نوٹس لیں،1992 ء سے اب تک 100 چھاپے نائن زیرو پر مارے گئے ، 1995 ء میں میرے بھائی اور بھتیجے کو قتل کر دیا گیا ، ان دونوں کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ان کا میرے ساتھ رشتہ دار ہونے کی بناء پر قتل کیا گیا،میرے بہنوئی کو اڈیالہ جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کو برداشت نہیں کر سکتی اور اگر میری شکل پسند نہیں تو ایم کیو ایم کو رینجرز کے حوالے کر دے یا پھرکراچی کو جماعت اسلامی ،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے حوالے کر دیا جائے ،رابطہ کمیٹی سے کہتا ہوں کہ وہ اب اس بارے فیصلہ کرے اور فوری طور پر لائحہ عمل بنائیں کیونکہ میں بکتا نہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ مجھ سے نفرت کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی فوری طور لائحہ عمل بنائے اور مجھے ایم کیو ایم سے علیحدہ کردے، مجھے خدمت خلق فاؤنڈیشن میں رہنے دیں،ہم پرظلم بند نہ ہوا تو ابابیل کنکریاں برسائیں گے،کوئی حق کی بات کرنے والا نہیں یہ ملک چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے ،رابطہ کمیٹی کان کھول کر سن لے ایم کیو ایم میں دہشت گردوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،نائن زیرو پر دہشت گرد موجود تھے تو رابطہ کمیٹی کو بتا دینا چاہیے تھا ،کسی سے ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو دوسروں کو نہ پھنساتے ۔

جو غلطی کر بیٹھے تھے اور پولیس کو مطلوب تھے انہیں نائن زیرو کو مصیبت میں نہیں ڈلوانا چاہیے تھا،اتنی بڑی دنیا ہے کہیں اور چلے جاتے ،دہشت گردوں نے پوری ایم کیو ایم کو بدنام کر دیا ہے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/03/2015 - 16:19:20

اپنی رائے کا اظہار کریں