ایل این جی درآمد میں تاخیر سے پرائیویٹ اینگرو مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے
تازہ ترین : 1
ایل این جی درآمد میں تاخیر سے پرائیویٹ اینگرو مشکلات کا شکار ہو سکتی ..

ایل این جی درآمد میں تاخیر سے پرائیویٹ اینگرو مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے

پاکستان کھیپ منگوانے کیلئے تیار ہے ، تاہم درآمدگی میں مہینوں لگ سکتے ہیں ، میڈیا رپورٹ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ۔2015ء) حکومت ایل این جی درآمد فوری طور پر نہیں کر سکے گی اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ممکن نہیں جس سے اربوں روپے کا ٹرمینل تعمیر کرنے والی پرائیویٹ کمپنی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ کمپنی اینگرو ایلنجی ٹرمینل لمٹیڈ ( ای ای ٹی ایل ) نے حکومتی کنٹریکٹ حاصل کرنے کے بعد پائپ لائن سمیت دیگر تنصیبات تعمیر کے لئے 133.3 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی اس پروجیکٹ میں فلوٹنگ سٹوریج اور ری گیسفیکیشن بھی شامل ہے ۔

پروجیکٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ پہلا ایل این جی کارگو کب آئے گا اور بحری جہاز کو یہاں لانے کا کیا نکتہ پوشیدہ ہے رپورٹ کے مطابق 31 مارچ کے بعد ایل این جی کی درآمد کا مطلب یہ ہو گا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہر روز اینگرو کمپنی کو 272000 ڈالرز کی ادائیگی کرنا پڑے گی ۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام قطر کے ساتھ گیس درآمد کے حوالے سے بیانات دینے آ رہے ہیں تاہم ابھی تک اس کا اعلان نہیں ہو سکا ہے رپورٹ کے مطابق تاخیر کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں تاہم سب سے اہم حکومت کو خفگی اور شرمندگی سے بچانا ہے ۔

ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم یہ سنتے آ ریجہ ہیں کہ پاور کمپنیاں ایل این جی کو استعمال کریں گی اور اس کی درآمد کے لئے رقوم کا بندوبست کریں گی تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ہے اگرچہ پاکستان کھیپ منگوانے کے لئے تیار ہے تاہم حقیقی طور پر گیس درآمدگی میں ہفتوں لگ سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ ایل این جی کا انتظام و انصرام حکومت کا کام ہے جو 200 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

وقت اشاعت : 11/03/2015 - 13:41:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں