پاکستان کے پاس بہترین موسم او رزرعی ٹیکنالوجی موجود ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی ..
تازہ ترین : 1

پاکستان کے پاس بہترین موسم او رزرعی ٹیکنالوجی موجود ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے پالیسی سازی پر توجہ دینی ہوگی‘زرعت کے شعبے کی ترقی کے لئے چھوٹے کسانوں کو سہولیا ت فراہم کرنا ہوں گی

کراچی میں ویٹ ٹریولنگ سیمینار 2015 سے زرعی ماہرین کا خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06مارچ۔2015ء) ملک کے ممتاز زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ زراعت کی ترقی اور غذائی خودکفالت یقینی بنانے کے لئے زرعی پالیسیوں پر توجہ دینا ہوگی اور انہیں موثر بنانا ہوگا۔ ہمارے پاس سازگار موسم اور تمام ضروری ٹیکنالوجی موجود ہے تاہم اگر ضرورت ہے تو وہ اس چیز کی کہ ہم پالیسی پر توجہ دیں۔ گندم کا سفری سمینار کسانوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے جس میں شمولیت کرکے وہ اپنی فصل بڑھانے کے کئی کارآمد طرریقے سیکھ سکتے ہیں۔

وہ یہاں ہونے والے ”ویٹ ٹریولنگ سمینار 2015“ سے خطاب کر رہے تھے ۔ یہ سفری سمینار پی اے آر سی نےUSDA, CIMMYTاور دیگر اداروں کے تعاون سے منعقد کیا۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان زرعی ترقیاتی کونسل )پی اے آر سی ( ڈاکٹر افتخار احمدنے کہا کہ پی اے آرسی تمام صوبوں کی مشاورت سے تحقیق عمل کو آگے بڑھارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے آر سی کے زرعی سائنسدانوں نے حال ہی میں رسٹ سے پاک گندم کی چار نئی اقسام متعارف کرائی ہیں ان میں بائیو فورٹیفائڈ نامی گندم کی وارئٹی صحت کے اعتبار سے نہایت موزوں ہے۔

پی اے آر سی کے چیرمین نے کہا کہ ادارہ دیگر زرعی اداروں کے سائنسدانوں نے مل کر گندم کی بیماریوں پر کنٹرول کر رہی ہے۔ اس میں UG-99کی روک تھام کے لئے NARC-11گندم کی نئی ورائٹی متعارف کرائی ہے۔ تصدیق شدہ بیج کو زیادہ سے زیادہ متعارف کر ایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کاشتکار وں کو باقی ممالک کے کسانوں کے مطابق سہولیا ت دی جائیں تو پاکستان گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں برازیل کی حکومت کی طرح چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ یہ شعبہ ترقی کرے اور کسان خوشحال ہوجائے تاکہ وہ ملکی معشیت کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرسکے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو غربت سے نکال کر ہنر مند بنانے کے لئے PARC پرائم منسٹریوتھ بزنس لون میں اپنی فنی سروس مہیا کررہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھ آبادگار بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی نے کہا کہ پاکستان کو قدرت نے نہایت موزوں موسموں سے نوازا ہے۔

اس کے علاوہ زرعی سائنسدانوں کی محنت سے نئی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی جاچکی ہیں۔ تاہم اس امر کی اشد ضرور ت ہے کہ ہم زرعی پالیسی پر توجہ دیں اور اس شعبے کی ترقی کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمینار کسانوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے جس میں شرکت کر کے وہ نہ صرف نئی ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کئی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں جو انہیں اضافی فصل حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں CIMMYT کے ملکی نمائندے ڈاکٹر امتیاز نے پی اے آر سی کو یقین دلایا کہ اس کا ادارہ تحقیقی سرگرمیوں کے لئے بھر پور تعاون کرے گا۔ نیشنل کوآرڈینیٹر ویٹ ڈاکٹر عتیق الرحمان رتو نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمینار سائنسدانوں اور کسانوں کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ ایک دوسرے سے سیکھیں۔ انہوں نے کہا سائنسدان کھیتوں میں جاکر اپنی تحقیق کو مزید فروغ دے سکتے ہیں جبکہ کسان سائنسدانوں سے کاشتکاری کے نئے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔

سمینار سے سابقہ ممبر نیشنل اسمبلی اے کے خانزادہ، ممبر پی اے آر سی پلانٹ سائنسز ڈاکٹر شاہد مسعود، سابقہ کمشنر گندم ڈاکٹر عبدالقادر بلوچ کے علاوہ خوارک اور گندم سے متعلقہ صنعتوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا سمینار سے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں تمام کاشتکاروں، پالیسی بنانے والوں، سرکاری حکام سے مشاورت، تجاویز اور تجرباتو شیئر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جس کے نتیجے میں آئندہ کی پالیسی مرتب کی جاسکتی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/03/2015 - 17:25:47

اپنی رائے کا اظہار کریں