کراچی ،سندھ سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں کیلئے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے تمام ..
تازہ ترین : 1

کراچی ،سندھ سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں کیلئے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے تمام امیدوار کامیاب،

اپوزیشن کے واحد امیدوار امام الدین شوقین کو صرف 13 ووٹ ملے اور وہ ہار گئے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 مارچ۔2015ء )سندھ سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں کیلئے پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیوایم ) کے تمام امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔اپوزیشن کے واحد امیدوار امام الدین شوقین کو صرف 13 ووٹ ملے ہیں اور وہ ہار گئے ۔یہ اعلان جمعرات کوسندھ اسمبلی میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اور ریٹرننگ افسر ایس ایم طارق قادری نے پریس کانفرنس میں کیا ۔

اس موقع پر پولنگ افسران تنویر زکی ، عطا الرحمن ، نعیم احمد ، ندیم حیدر ، مسعود قریشی ، سید راشد حسین اور الیکشن کمیشن سندھ کا دیگر عملہ بھی موجود تھا ۔نتائج کے مطابق 7 جنرل نشستوں پرپاکستان پیپلز پارٹی کے 5 امیدوار اسلام الدین شیخ ، سلیم مانڈوی والا ، انجینئر گیان چند ، عبدالطیف انصاری ، عبدالرحمن ملک اور ایم کیو ایم کے دو امیدوار میاں عتیق اور خوش بخت شجاعت کامیاب قرار دیئے گئے ۔

ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اور ایم کیو ایم کے بیرسٹر سیف جبکہ خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی سسی پلیجو اور ایم کیو ایم کی نگہت مرزا پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہو چکی ہیں ۔ اس طرح سندھ کی سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے 7 اور ایم کیو ایم نے 4 نشستیں حاصل کی ہیں ۔صوبائی الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں کہاکہ کل 167 ارکان ووٹ کے اہل تھے ، جن میں سے 163 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا ۔

نتائج کے مطابق پہلی ترجیح میں پیپلز پارٹی کے اسلام الدین شیخ 24 ، ایم کیو ایم کی خوش بخش شجاعت 22 اور میاں محمد عتیق شیخ 22 ، پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا 21 اور انجینئر گیان چند 21 ووٹ کے ساتھ کامیاب قرار پائے ۔ پہلی ترجیح میں سابق وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک 20 ووٹ کے ساتھ 7 ویں اور عبدالطیف انصاری 20 کے ساتھ چھٹی پوزیشن پر رہے ۔

تاہم دوسری ترجیح میں ان دونوں کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ن) کے مشترکہ امیدوار امام الدین شوقین کو صرف 13 ووٹ ملے ۔ ریٹرننگ افسر کے مطابق فارمولا 20.38 تھا اور ووٹ کاسٹنگ کی شرح 97.60 فیصد رہی ۔ ایس ایم طارق قادری کے مطابق تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں نے رزلٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور حتمی رزلٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان گوشوارے جمع ہونے کے بعد کرے گا ۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے گذشتہ شب ہی پولنگ اسٹیشن کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا اور یہاں صبح سے ہی ہمارا عملہ موجود رہا ۔ صبح 9 بجے پولنگ تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی ۔ ایک بجے تک پولنگ کا عمل سست رہا ۔ تاہم ایک بجے کے بعد تیزی رہی اور سوا چار بجے تک 163 ووٹ کاسٹ ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق کامیاب ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق پیپلز پارٹی اور دو کا ایم کیو ایم سے ہے ۔

نتائج کے اعلان کے بعد پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اسمبلی میں جشن منایا اور زبردست نعرے بازی کی ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نہ جھکنے والا آصف زرداری ، نہ بکنے والا آصف زرداری ، سب پہ بھاری آصف زرداری کے نعرے لگا رہے تھے جبکہ ایم کیو ایم کے کارکنان جئے متحدہ ، جئے الطاف کے نعرے لگا رہے تھے ۔ انہوں نے کامیابی کی خوشی میں مٹھائی بھی تقسیم کی

وقت اشاعت : 05/03/2015 - 22:14:24

اپنی رائے کا اظہار کریں