سینیٹ کے انتخابات میں سندھ میں دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کی وہ مثال قائم کی گئی، ..
تازہ ترین : 1

سینیٹ کے انتخابات میں سندھ میں دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کی وہ مثال قائم کی گئی، شہریار خان مہر ،

پیپلز پارٹی کے گنا کا ریٹ پورا نہ ملنے والے ارکان کو ملاتا تو کامیاب ہو جاتے،ہمارے پانچ ارکان کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ توڑا گیا،کس نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ، جلد پتہ چل جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 مارچ۔2015ء) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہریار خان مہر نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں سندھ میں دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کی وہ مثال قائم کی گئی ہے ، جس سے پورے پارلیمان کو شرمندگی کا سامنا ہے ۔ ہمارے پانچ ارکان کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ توڑا گیا ہے ۔ کس نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ، جلد پتہ چل جائے گا حالانکہ دوپہر کا کھانا بھی ہم 18 آدمیوں نے ایک ساتھ کھایا ۔

میں صرف پیپلز پارٹی کے گنا کا ریٹ پورا نہ ملنے والے ارکان کو ملاتا تو ہم کامیاب ہو جاتے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (فنکشنل) کے نندکمار ، امتیاز شیخ ، احمد شیخ اور نصرت سحر عباسی بھی موجود تھیں ۔ شہریار خان مہر نے کہا کہ الیکشن میں الیکشن کمیشن کا کردار بھی انتہائی مشکوک رہا ، جس وقت پولنگ کا آغاز ہوا ، پولنگ بکس خالی تھا لیکن جب گنتی پوری ہوئی تو اس میں سے دو خالی کاغذ نکلے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاغذ کس نے ڈالے اور کیوں ڈالے ۔ الیکشن کمیشن کی اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دراصل جن ارکان نے اپنے ضمیر کا سودا کیا تھا ، انہوں نے اصل بلٹ پیپر کی جگہ خالی کاغذ بلٹ بکس میں ڈال دیا اور اصل بلٹ پیپر باہر پر کرکے دوسرے ممبر کے ذریعہ بلٹ بکس میں ڈال دیا گیا ۔ یہ عمل دو مرتبہ ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بدترین ہارس ٹریڈنگ اور دھاندلی کے ذریعہ ہمارے پانچ ارکان کو خریدا گیا ۔ ہم اپنی جگہ متحد تھے اور دوپہر کا کھانا بھی ہم نے ایک ساتھ کھایا ۔ فی الحال یہ کہنا کہ ان کا تعلق (ن) لیگ یا (فنکشنل) لیگ سے تھا ، قبل از وقت ہے اور چند دن میں یہ سارے نام سامنے آ جائیں گے ۔ اگر ( فنکشنل ) لیگ کا کوئی رکن اس خرید و فروخت میں پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

نیشنل پیپلز پارٹی نے پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے ۔ ان سے ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہے ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ سندھ میں مسلم لیگ (فنکشنل) کی سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ہم اپنی پالیسیوں کے مطابق کام کر رہے ہیں ۔ اگر ہم چاہتے تو ہم بھی خریدو فروخت کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ایک غلط روایت قائم کی ہے ۔ اس کا نقصان پورے پارلیمان کو ہو گا اور آج ہونے والی دھاندلی پارلیمان کے ماتھے پر بدنما داغ ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 05/03/2015 - 21:31:15

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں