سندھ حکومت نے اپنی شہید چیئرپرسن اور چیئرمین بلاول بھٹو کو بھلادیا، بے نظیر اور ..
تازہ ترین : 1
سندھ حکومت نے اپنی شہید چیئرپرسن اور چیئرمین بلاول بھٹو کو بھلادیا، ..

سندھ حکومت نے اپنی شہید چیئرپرسن اور چیئرمین بلاول بھٹو کو بھلادیا، بے نظیر اور بلاول بھٹو کے نام سے منسوب ترقیاتی منصوبوں پر فنڈز کا اجرا تعطل کا شکار

حکومت سندھ نے رواں مالی سال میں صحت،تعلیم اور ددیگر شعبوں میں پارٹی قائدین کے نام سے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4مارچ۔2015ء) سندھ حکومت نے اپنی سابقہ شہید چیئرپرسن اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھلادیا۔ صوبے میں بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کے نام سے منسوب ترقیاتی منصوبوں پر فنڈز کا اجرا تعطل کا شکار ہوگیا۔ حکومت سندھ نے رواں مالی سال میں صحت،تعلیم اور ددیگر شعبوں میں پارٹی قائدین کے نام سے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جن میں کراچی میں بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر منصوبہ تین سال سے تکمیل کا منتظرہے جبکہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ دادو کے لیے ایک فیصد رقم بھی جاری نہیں ہوئی۔

ادھر حکومت نے بے نظیر بھٹو گرلز کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا اور بے نظیر بھٹو کالج آف ایجوکیشن لاڑکانہ کے لیے178 ملین میں سے صرف 60 لاکھ روپے جاری کئے۔ بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج لیاری ،بختاور بھٹو زرداری ڈگری کالج حیدرآباد اور بے نظیر بھٹو کالج آف ہوم اکنامکس گڈاپ کے لیے17کروڑ روپے میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں ہوا۔

ذوالفقار بھٹو انجینئرنگ کالج گڈاپ کے لیے صرف 50لاکھ روپے جاری کیے گئے جبکہ بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں فارمیسی فیکلٹی کے قیام کا منصوبہ بھی فنڈز کے عدم اجراء پر تاخیر کا شکار ہوگیا۔ ادھر بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر کا منصوبہ بھی فنڈز کے اجرا نہ ہونے پر شروع نہیں ہوسکا۔ حکومت نے بے نظیر بھٹو سائنس انسٹی ٹیوٹ حیدرآباداور آصفہ بھٹوانسٹی ٹیوٹ آف الیکڑونکس کے لیے محکمہ خزانہ نے کوئی فنڈز جاری نہیں کیے جبکہ بے نظیر بھٹوانسٹیوٹ آف یورالاجی نواب شاہ کے لیے 75فیصد اور بے نظیر بھٹو سینٹر فار برنس وکٹم کے لیے 50فیصد فنڈز جاری نہیں ہوئے۔

حکومت کی عدم توجہی کے باعث بے نظیر بھٹو انٹر سٹی بس منصوبہ بھی فنڈز کی عدم دستیابی کی نذر ہوگیا۔ محکمہ بلدیات کے تحت میرپورخاص میں بے نظیر بھٹوچیئریٹی اسپتال منصوبے کے لیے بھی فنڈز نہیں ملے۔ لاڑکانہ میں نصرت بھٹو گرلز ڈگری کالج منصوبے کے لیے محکمہ خزانہ نے فنڈز جاری نہیں کیے گئے اور نوابشاہ میں ذوالفقار بھٹو میموریل لائبریری منصوبے کے لیے محکمہ بلدیات مختص فنڈز جاری نہیں کراسکا۔ علاوہ ازیں بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری کے لیے بھی درکار فنڈز جاری نہیں ہوئے جبکہ بے نظیر بھٹو میوزیم لاڑکانہ کے لیے رواں مالی سال میں مختص صرف 50فیصد فنڈز جاری ہوئے اور بلاول بھٹو فلائی اوور جیکب آباد کے محکمہ خزانہ کے پاس فنڈز ہی نہیں ہیں۔

وقت اشاعت : 04/03/2015 - 23:35:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں