آسٹریا پاکستان کے ساتھ اقتصادی،تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے ..
تازہ ترین : 1

آسٹریا پاکستان کے ساتھ اقتصادی،تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کاخواہش مند ہے ،ڈاکٹر بریگیٹا بلاہا،

دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کوفروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں،آسٹریین سفیر کا کے سی سی آئی کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4مارچ۔2015ء)آسٹریا کی سفیر ڈاکٹربریگیٹا بلاہانے کہا ہے کہ آسٹریا پاکستان کے ساتھ اقتصادی،تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کاخواہش مند ہے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کوفروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پراجلاس سے خطاب میں کہی۔

اس موقع پرآسٹریا کے کراچی میں اعزازی قونصل جنرل بابرتجمل،کمرشل قونصلرآسٹریا ٹریڈ مشن رچرڈباندیرا،کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد وہرہ،سینئر نائب صدرمحمد ابراہیم کوسمبی،نائب صدر آغا شہاب احمد خان،چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز وایمبیسیز لائژن سب کمیٹی محمد نعیم شریف اورکے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجودتھے۔آسٹریا کی سفیر نے کراچی میں آسٹریا کاقونصلیٹ دوبارہ کھولنے پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں حال ہی آسٹریا کے اعزازی قونصلیٹ کورنگا رنگ ثقافتی تقریب کے انعقاد کے ساتھ کھولا گیاہے کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس قسم کے تقریبات مختلف ممالک کے عوام کے عوام سے رابطوں کو مضبوط بنانے میں مددملتی ہے۔

آسٹرین سفارتخانہ پاکستان کے امیج بہتر بنانے کے لیے مزید ثقافتی تقریبات منعقد کرے گا۔کمرشل قونصلرآسٹریا ٹریڈ مشن رچرڈباندیرانے کہا کہ آسٹریا ٹریڈ مشن کی جانب سے پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں جبکہ میڈیا پر نشر ہونے والے مختلف واقعات کی بنا پر پاکستان آنے سے گریز کرنے والے غیرملکیوں کو یہاں لانا ہماری اولین ذمہ داری میں شامل ہے۔

قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار احمد وہرہ نے آسٹرین سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔انہوں نے کہاکہ کم تجارتی حجم ظاہر کرتا ہے کہ تجارتی حجم دونوں ملکوں میں دستیاب مواقعوں کے مطابق نہیں۔مالی سال2014کے دوران پاکستان کی آسٹریا کے لیے برآمدات42.94ملین ڈالر رہیں جبکہ درآمدات92.93ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

کے سی سی آئی کے صدر نے دوطرفہ تجارت کوفروغ دینے کے حوالے سے آسٹریا سے تجارتی وفد کے دورہ پاکستان کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی پرکشش مارکیٹ ہے جبکہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے اور سستی افرادی قوت دستیاب ہونے کی وجہ سے آسٹرین تاجربرادری کو زبردست کاروباری مواقع میسر آسکتے ہیں۔کراچی میں کئی بین الاقومی کمپنیاں کامیابی کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں آسٹرین کمپنیاں بھی یہاں کاروباری یونٹس قائم کرکے خاطر خواہ فوائد حاصل کرسکتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی قومی خزانے میں 65فیصد سے زائد ریونیو جمع کرانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہاہے۔افتخار احمدوہرہ نے کہاکہ مجموعی طور پرکاروباری صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی۔آسٹریا کے تاجر وصنعتکار حکومت پاکستان کی غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش سرمایہ کارپالیسی اور سرمائے کی 100فیصد ضمانت کی حکمت عملی کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد ابراہیم کوسمبی نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان معیشت کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ بدلتے ہوئے جو جیوپولیٹیکل ماحول خاص طور پرافغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا سے پاکستان سینٹرل ایشین ری پبلکس(CARs) کے لیے گیٹ وے بن جائے گا۔پاکستان آسٹرین سرمایہ کاروں کوبے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے جہاں پاکستان کے کثیرقدرتی وسائل،بڑی مقدار میں خام مال کی پیداواراور یونٹس کے قیام کے لیے سستی افرادی قوت، زمین کے علاوہ پانی کے وافر ذخائر،پھل و سبزیوں سمیت مختلف اجناس کی کاشت قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے آسٹرین تاجربرادری کو مشورہ دیا کہ وہ مشترکہ شراکت داری پر غور کریں جو سب کے لیے فائدے مند ثابت ہوسکتا ہے۔کے سی سی آئی کے نائب صدر آغا شہاب احمد خان نے کراچی میں آسٹریا کے حال میں تعینات اعزازی قونصل جنرل کو مشورہ دیا کہ وہ دونوں ملکوں کی تاجربرادری کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دوطرفہ تجارت میں اضافے کی راہیں تلاش کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان آسٹریا کوٹیکسٹائل،کھانے پینے کی اشیاء اور لکڑی برآمدکرسکتا ہے جبکہ آسٹریا سے مشینری،کمیونی کیشن و ٹیلی کمیونی کیشن کے آلات منگوائے جاسکتے ہیں۔ آغا شہاب احمد خان نے تجویز پیش کی کہ اگر آسٹرین سرمایہ کار مشترکہ شراکت داری میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں تو پاکستان کوتکنیکی معاونت فراہم کرنے پر غورکریں جس سے پاکستان میں اعلیٰ معیاری مصنوعات کی پیداوار کر کے آسٹریا سمیت دیگر ممالک کوبرآمدات بڑھائی جاسکتی ہیں۔

وقت اشاعت : 04/03/2015 - 19:08:54

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں