سندھ اسمبلی: ٹاوٴن میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے فنڈزکے حوالے سے اپوزیشن لیڈر شہریار ..
تازہ ترین : 1

سندھ اسمبلی: ٹاوٴن میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے فنڈزکے حوالے سے اپوزیشن لیڈر شہریار مہر کی نجی قرارداد کثرت رائے سے مسترد،

یہ تصور ہی غلط ہے کہ ٹی ایم ایز کو جاری کردہ فنڈز غلط استعمال ہو رہے ہیں یا حکومت نے فنڈز کے غلط استعمال کی اجازت دی ہے،سکندر میندھرو ، سندھ حکومت کی تاریخ میں پہلی دفع بلدیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کے بارے میں ساری تفصیلات ویب سائٹ پر ڈالی ہیں ،شرجیل انعام میمن

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03مارچ۔2015ء ) سندھ اسمبلی نے منگل کو اپوزیشن لیڈر شہریار خان مہر کی نجی قرار داد کثرت رائے سے مسترد کر دی ، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت سندھ محکمہ بلدیات کے ذریعہ اس امرکو یقینی بنائے کہ ٹاوٴن میونسپل ایڈمنسٹریشنز ( ٹی ایم ایز ) کے فنڈز اسی مقصد کے لیے خرچ کیے جائیں ، جس مقصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں ۔

قرار داد میں کہا گیا کہ ان فنڈز کی فراہمی کا مقصد یہ ہے کہ علاقوں کی صفائی کی جائے ، نالوں کی مینٹی ننس کی جائے اور سیوریج نالوں کے پمپنگ اسٹیشن کام کر رہے ہیں ۔ وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل انعام میمن اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ تصور ہی غلط ہے کہ ٹی ایم ایز کو جاری کردہ فنڈز غلط استعمال ہو رہے ہیں یا حکومت نے فنڈز کے غلط استعمال کی اجازت دی ہے ۔

قرار داد پر شہریارخان مہر کے علاوہ ایم کیو ایم کے ارکان محمد حسین ، ظفر احمد خان کمالی ، مسلم لیگ (فنکشنل) کے نندکمار اور رفیق بانبھن اور دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ بلدیاتی ادارے تباہ ہو چکے ہیں ۔ پورے صوبے میں کہیں بھی صفائی نہیں ہے ۔ گٹر ابل رہے ہیں ۔ لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ۔ سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے ۔

مسلم لیگ (فنکشنل) کے ارکان نے یہ الزام عائد کیا کہ بلدیاتی اداروں میں کرپشن اور لوگ پیسے دے کر تعینات ہوتے ہیں ۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی تاریخ میں پہلی دفع بلدیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کے بارے میں ساری تفصیلات ویب سائٹ پر ڈالیں تاکہ پوری دنیا کو پتہ چل سکے کہ ان اداروں کی رقم کس مد میں خرچ ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ جو ٹاوٴن میونسپل آفیسر کرپشن میں ملوث ہو گا یا غلط کام کرے گا ، وہ جیل جائے گا ۔ اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کے استعمال کی نگرانی ارکان اسمبلی بھی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی تباہی پرویز مشرف کے دور سے شروع ہوئی ، جب ناظمین کو صحت ، تعلیم اور دیگر محکموں کے اختیارات دیئے گئے ۔

ایس ایس پیز کی اے سی آرز بھی ناظم لکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی ساری زمینیں اپنے لوگوں کو دے دی گئیں ۔ بلدیاتی اداروں نے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ۔ ان میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو جو حصہ ملتا ہے ، اس سے تنخواہیں بھی پوری نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلی مرتبہ بلدیاتی اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ کوٹیشنز کی بجائے صرف ٹینڈرز پر رقم نکال سکیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میں پہلا بلدیاتی وزیر ہوں ، جس نے اپنے سارے اختیارات کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو دے دیئے ہیں ۔ ہم نیک نیتی سے سارے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کریں گے ۔ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں نکالی جاتی ہیں اور کام کوئی نہیں کرتا ۔ صوبائی وزیر جھاڑو لے کر پورے سندھ کو صاف نہیں کر سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ پورے سندھ میں جاری مہم کو میں خود مانیٹر کر رہا ہوں ۔ کراچی میں میں روزانہ دورے کرتا ہوں ۔ پورے سندھ میں بھی دورے کروں گا ۔ کراچی میں روزانہ 12 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جا رہا ہے ۔ ہم نے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ بھی بنا دیا ہے ۔ 20 سال کے مسائل ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو سکتے ۔ گھوسٹ ملازمین کو نکالنے کے لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملازمین کو سندھ بینک کے ذریعہ تنخواہیں دی جائیں گی ۔

جن ملازمین کے اکاوٴنٹس نہیں ہوں گے ، انہیں تنخواہیں نہیں دی جائیں گی ۔ہم نے تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ناظمین تھے تو شہر نیویارک یا پیرس بن گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والوں نے ہماری صفائی مہم کا ساتھ دیا ۔ اس کی مجھے خوشی ہے ۔ دیگر اپوزیشن ارکان بھی ساتھ دیں تو اور زیادہ خوشی ہو گی ۔

ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ہم نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ فنڈز کا غلط استعمال کریں ۔ یہ صرف پروپیگنڈا ہے ۔ صوبائی وزیر جام خان شورو اور پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب خان سرکی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بہت کام کیے ہیں ، جو نظر آ رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے لوگ ہمارے ساتھ ہیں ۔ کرپشن کی باتیں صرف پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 03/03/2015 - 22:18:54

اپنی رائے کا اظہار کریں