سندھ اسمبلی :بحریہ ٹاوٴن اور دیگر ہاوٴسنگ اسکیمز کو سستے نرخوں پر سندھ کی زمین ..
تازہ ترین : 1

سندھ اسمبلی :بحریہ ٹاوٴن اور دیگر ہاوٴسنگ اسکیمز کو سستے نرخوں پر سندھ کی زمین کی فروخت روکنے کے حوالے سے قرارداد مسترد

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03مارچ۔2015ء ) سندھ اسمبلی نے منگل کو ایک قرار داد کثرت رائے سے مسترد کر دی ، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بحریہ ٹاوٴن اور دیگر ہاوٴسنگ اسکیمز کو سستے نرخوں پر سندھ کی زمین کی فروخت روک دی جائے ۔ یہ قرار داد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن سورٹھ تھیبو کی طرف سے پیش کی گئی تھی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اس قرار داد کی مخالفت کی جبکہ قرار داد پر رائے شماری کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (فنکشنل) کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے ۔

صرف قرار داد کی محرک سورٹھ تھیبو اپوزیشن بینچوں پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھیں ۔مسلم لیگ (فنکشنل) کے ارکان اس قرار داد سے پہلے کسی مسئلے پر ایوان سے واک آوٴٹ کر گئے تھے اور واپس نہیں آئے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان بھی موجود نہیں تھے ۔ قرار داد کی محرک سورٹھ تھیبو نے کہا کہ بحریہ ٹاوٴن ایک چھوٹی سی کمپنی تھی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتی چلی گئی ۔

اس کو نہ صرف سندھ کی قیمتی زمینیں حوالے کر دی گئی ہیں بلکہ وہ حکومتی امور میں بھی اثر انداز ہو رہی ہے ۔ کراچی ، جامشورو ، بے نظیر آباد اور ذوالفقار آباد کی زمینیں ان کے حوالے کر دی گئی ہیں ۔ اس سے سندھ کو نقصان ہوا ہے ۔ ایک شخص ہماری زمینوں سے اربوں ، کھربوں روپے کما رہا ہے اور الٹا وہ ہم پر احسان بھی کر رہا ہے اور ہمیں خیرات دے رہا ہے ۔

وہ یونیورسٹیز بنا رہا ہے حالانکہ پیسہ ہماری زمینوں سے کمایا گیا ہے ۔ سندھ کے سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ قرار داد پیش کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن اس قرار داد کے پیچھے مائنڈ سیٹ کو بھی سمجھنا چاہئے ۔ بحریہ ٹاوٴن کی ہاوٴسنگ اسکیمز اسلام آباد اور لاہور میں بھی ہیں ۔ ان پر کسی نے اعتراض نہیں کیا ہے ۔ اگر کراچی میں کوئی ہاوٴسنگ اسکیم بن رہی ہے تو اس پر اعتراض کیا جا رہا ہے ۔

صرف بحریہ ٹاوٴن نہیں بلکہ مختلف پرائیویٹ کمپنیاں ہاوٴسنگ انڈسٹریز میں کام کر رہی ہیں ۔ اخبارات میں اشتہارات بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ہر شہر اور ہر ملک میں یہ اسکیمز بنتی ہیں کیونکہ تیزی سے شہر کاری ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فلاحی کام کرتا ہے تو اس پر طنز کرنے یا کیچڑ اچھالنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ہاوٴسنگ انڈسٹری سے تقریباً 40 انڈسٹریز وابستہ ہیں ۔

اس سے ہماری معیشت بہتر ہوتی ہے ۔ کئی ممالک انڈسٹری لگانے کے لیے مفت پلاٹ دیتے ہیں ۔ اس میں کیڑے نکالنے کی کیا بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں ہمارے بچے ہی پڑھیں گے ۔ اگر کوئی سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔ ایم کیو ایم کے کامران اختر نے کہا کہ ہم اس قرار داد کی مخالفت کرتے ہیں ۔ بحریہ ٹاوٴن کے ایک کھرب روپے کے فلاحی منصوبے شروع ہو رہے ہیں ۔ الطاف حسین بھائی کے نام سے یونیورسٹی کا آغاز ہو رہا ہے ۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے بھی یونیورسٹی بن رہی ہے ۔ اگر کوئی دیگر لوگ بھی اس طرح کے کام کرنا چاہتے ہیں تو آئیں اور اپنا کردار ادا کریں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 03/03/2015 - 22:17:05

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں