کراچی ،اولیائے کاملین کی تعلیمات سے مادّہ پرستی کی جگہ روحانیت کو عام کیاجائے، ..
تازہ ترین : 1

کراچی ،اولیائے کاملین کی تعلیمات سے مادّہ پرستی کی جگہ روحانیت کو عام کیاجائے، جمعیت علماء پاکستان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03مارچ۔2015ء)اولیائے کاملین کی تعلیمات سے مادّہ پرستی کی جگہ روحانیت کو عام کیاجائے، خانقاہوں اور آستانوں کا اصل مقصد اشاعت دین اور خلق خداکی خدمت ہے۔ یہ باتیں نیوکراچی میں سالانہ غوث الاعظم  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمدشبیرابوطالب، جے یوپی کراچی کے صدر علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی اور مولانانسیم الحسن نے کہیں۔

کانفرنس سے بابافخرالدین نورانی، صوفی منورنبی قادری، راشدعطاری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ معروف ثناء خواں الحاج طاہرقادری، الحاج عمران شیخ عطاری، ذیشان قادری، حافظ جنید قادری ودیگر نے ہدیہء نعت ومنقبت پیش کیااور معروف نقیب محفل سیدعمیر سمیع نے نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ جے یوپی کے مرکزی رہنمامحمدشبیرابوطالب نے اپنے خطاب میں کہاکہ اللہ کا ولی ہمیشہ پابندشریعت ہوتاہے، جس کے کرداروعمل سے سنتّوں کے اتباع کا اندازچھلکتاہے اوراولیاء اللہ کسی کے مال ومتاع سے مرعوب ہونے کے بجائے ہمیشہ ظلم اور جبرکو للکارنے والے ہوتے ہیں ،جوہرحال میں اللہ کے احکامات کی بجاآوری میں مصروف ہوتے ہیں۔

جن کے ہرقول وفعل سے عوام الناس کی بھلائی کا پہلونکلتاہے۔ آج کے دورمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مادّہ پرستی کا مقابلہ حقیقی روحانیت سے کیاجائے اور شریعت کے احکامات کو بہرصورت نافذکیاجائے۔ جے یوپی کراچی ڈویژن کے صدر علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی نے کہاکہ آج کے نام نہادسجادہ نشین ،بے عمل صاحبزادگان، بے دین کرسی نشین اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، جن کی غفلت ولاپرواہی سے مسلمانوں کا اجتماعی نقصان ہورہاہے اورنتیجتاً کفرکی طاقتیں تواناہورہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ محراب ومنبر اور خانقاہوں وآستانوں کی آوازآج بھی موٴثر ہے، جس سے ملک میں نظام مصطفےٰ ﷺ کے نفاذ کے لئے قوم میں بیداری کی لہر پیداکی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء پاکستان نے علماء ومشائخ کو گنبد خضراء کے پرچم تلے متحدکرکے ملک میں نظام مصطفےٰ ﷺ کے نفاذ کابیڑااٹھارکھاہے اور ایک دن انشاء اللہ کامیاب ہوکر ملک میں نظام مصطفےٰ ﷺ نافذ کرکے دم لیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 03/03/2015 - 19:44:46

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں