شہر میں مستقل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیا جائے، سینیٹر شاہی سید،
تازہ ترین : 1

شہر میں مستقل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیا جائے، سینیٹر شاہی سید،

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے دو رہنماؤں پر حملے کیے گئے تحفظ کے لیے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے، صدر اے این پی سندھ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔2مارچ۔2015ء)عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ شہر میں مستقل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیا جائے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے سازش ہے پولیس کی متعدد فرانزک رپورٹس بھی رکارڈ پر موجود ہیں کہ ایک اسلحہ سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متعدد بار گرفتاریوں کے دعوؤں کے باوجود فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ مستقل جاری ہے ،مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ مستقل جاری ہے دو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کو ایک دوسرے کا ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،کسی بڑے سانحہ کے رونماء ہونے سے قبل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کیا جائے ، باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ انتہاء پسندی کی مخالفت کی سزا ہم سے زیادہ کسی نے کاٹی دہشت گردی کا نشانہ صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی کو بنایا گیا،ضلع غربی میں جو کچھ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہوا اس کی مثال ملکی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اس ضلع میں ہماری تقریباً تمام سرکردہ قیادت کو ختم یا شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا ہے لوگ کھلم کھلا بڑے بڑے پروگرام منعقد کررہے ہیں اور ہم چاردیواری کے اندر چھوٹی میٹنگ بھی نہیں کرسکتے ،2013 کے عام انتخابات سے قبل تین جماعتوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی مگر عملا صرف اے این پی کو نشانہ بنایا گیاایک طویل عرصے سے ہم پر غیر اعلانیہ پابند عائد ہے شہر میں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کو جرم بنادیا گیا ہے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے دو رہنماؤں پر حملے کیے گئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاعات دیتے دیتے تھک چکے ہیں ہم وہ بد قسمت جماعت ہیں جس کے کئی سرکردہ رہنماء بزور جبر شہر و ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تحفظ کے لیے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے ۔

وقت اشاعت : 02/03/2015 - 21:10:28

اپنی رائے کا اظہار کریں