دہشتگردی ملک کے لئے ناسور بن گئی ہے، ماضی میں جو بیج بوئے گئے تھے حکومت اس کے خلاف ..
تازہ ترین : 1

دہشتگردی ملک کے لئے ناسور بن گئی ہے، ماضی میں جو بیج بوئے گئے تھے حکومت اس کے خلاف بھرپور ایکشن لے رہی ہے،شرجیل میمن،

جو سیاسی و مذہبی جماعتیں کبھی ان کو اپنے سسٹم کا حصہ تصور کرکے ان سے بات چیت کرنے کی باتیں کرنے کا کہتی تھی وہ بھی آج انہیں لاتوں کا بھوت تصور کررہی ہیں،وزیراطلاعات و بلدیات سندھ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔2مارچ۔2015ء) سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دہشتگردی اس ملک کے لئے ناسور بن گئی ہے اور ماضی میں اس کے جو بیج بوئے گئے تھے حکومت اس کے خلاف بھرپور ایکشن لے رہی ہے۔ جو سیاسی و مذہبی جماعتیں کبھی ان کو اپنے سسٹم کا حصہ تصور کرکے ان سے بات چیت کرنے کی باتیں کرنے کا کہتی تھی وہ بھی آج انہیں لاتوں کا بھوت تصور کررہی ہیں۔

آج ملک کی عسکری اور تمام سیاسی قوتیں ان دہشتگردوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں کہ ان کااس ملک سے خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔ سندھ حکومت صوبے میں ہونے والے سنگین واقعات کا سختی سے نوٹس لے کر تمام دستیاب وسائل اوراسٹریجیٹی کے ساتھ امن کے قیام کے لئے اقدامات کررہی ہے۔وہ منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ منگل کی صبح گلشن اقبال میں اسکول کے قریب اور بعد ازاں سائٹ ایریا میں رینجرز کی موبائل پر حملے کے واقعات افسوس ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین واقعات کے سبب ہی سندھ حکومت اپنے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے صوبے میں قیام امن کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ایپیکس کے اجلاس میں بھی کور کمانڈر سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سمیت تمام اعلیٰ افسران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ صوبے میں قیام امن کے ئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور دہشتگردوں کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور دہشتگردوں سے نبردآزما ہونے کے لئے ایک ہزار پولیس اہلکاروں کو ایس ایس جی کے کمانڈو کے تحت تربیت دی جائے گی۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ہمیں اب طالبان اور کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات لینے کی ضرورت ہے اور آج بھی ہماری کوشش ہے کہ اس ملک کو دہشتگردی اور ان کی سوچ کے حامل لوگوں سے پاک کرایا جائے کیونکہ یہ ہماری تعلیم، مذہب، انسان اور معیشت کے ساتھ ساتھ ملک دشمن سوچ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان قوتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا اور کچھ سیاسی اور مذہبی طاقتوں کے انہیں اپنے سسٹم کا حصہ قرار دے کر ان سے بات چیت کرنے کا بھی کہا لیکن آج وہی سیاسی و مذہبی قوتیں انہیں خود لاتوں کا بھوت قرار دے چکی ہیں اور آج ملک کی عسکری اور سیاسی قوتیں اس پر متحد ہیں کہ ان کا قلعہ قمع کیا جائے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ آج بھی ہماری فوج اور سول حکومت ایک آواز ہوکر ان کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی دہشتگرد کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور ہماری پولیس اور رینجرز برد باری سے ان کے خلاف آپریشن کررہی ہے اور کئی دہشتگرد مارے گئے ہیں اور پکڑے گئے ہیں اور آج بھی اسی طرح ان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ میں نئے سیاسی اتحاد کے حوالے کے سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ بھلے کتنے ہی سیاسی اتحاد بنیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس وقت سیاست کا وقت نہیں بلکہ ایک قوم بن کر ملک کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مدارس کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ مدارس جو تعلیم کی بجائے دہشتگردی کو فروغ دینے میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ایپیکس کے اجلاس میں تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اس حوالے سے رپورٹ تیار کریں اور نئے مدار س کو تعمیر سے قبل ان کی این ا و سی کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور محکمہ داخلہ سندھ مختلف مذہبی اسکالرز سے بھی رابطہ کرے گی اور ان سے مدد طلب کرے گی اور جہاں جہاں اس طرح کے غلط مدارس بنیں ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اب تبدیلی یقینی ہے اور دہشتگردی کی سوچ، ادارے اور اس میں ملوث یا اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی یقینی ہے۔

وقت اشاعت : 02/03/2015 - 20:46:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں