سندھ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتی ،ڈاکٹرسکندر ..
تازہ ترین : 1

سندھ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتی ،ڈاکٹرسکندر میندھرو

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02مارچ۔2015ء ) سندھ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتی ہے۔ ان اداروں کو پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے ۔ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ہدایت نہیں کرتی ہے کہ وہ فلاں جگہ چھاپے ماریں یا نہ ماریں ۔ یہ بات سندھ کے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹرسکندر میندھرو نے پیر کو ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان کے توجہ دلاوٴ نوٹس پر بتائی ۔

محمد حسین خان نے کہا کہ غیر قانونی گرفتاریوں کی وجہ سے اورنگی ٹاوٴن کراچی کے لوگ بہت مشکلات کا شکار ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے رہائی کے لیے رشوت لیتے ہیں ۔ حکومت نے اس حساس معاملے پر کیا اقدامات کیے ہیں ۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹارگیٹڈ آپریشن جاری ہے ۔ صرف ٹارگٹ کلرز ، دہشت گردوں ، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔

حکومت کی طرف سے گرفتار ہونے والے ملزمان کی رہائی کے لیے کوئی سفارش نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی گرفتاریوں کے لیے کوئی دباوٴ ڈالا جاتا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پورے ملک میں کارروائی کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔ حکومت کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی گرفتاریاں ہوتی ہیں یا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار افراد سے رہائی کے لیے رشوت طلب کرتے ہیں تو اینٹی کرپشن یا متعلقہ تھانوں میں شکایات درج کرائی جائیں ۔

حکومت کو بھی ان شکایات سے آگاہ کیا جائے ۔ ہم ان شکایات پر کارروائی کریں گے ۔ ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد کے توجہ دلاوٴ نوٹس پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی پارلیمانی سیکرٹری ارم خالد نے بتایا کہ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب انڈر پاس تعمیر کرنے کا کوئی منصوبہ فی الحال زیر غور نہیں ہے ۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان نے تحریک التواء پیش کی ، جس میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی کے حلقوں میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے جاری ترقیاتی اسکیمز کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے ۔

وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے اس تحریک التواء کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ تحریک قواعد کے خلاف ہے کیونکہ اس میں کسی مخصوص اسکیم کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ ڈپٹی اسپیکر نے یہ تحریک التواء خلاف ضابطہ قرار دے دی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 02/03/2015 - 17:25:51

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں