وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کیلئے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں ،تقرریوں ..
تازہ ترین : 1
وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کیلئے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں ..

وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کیلئے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں ،تقرریوں پر پابندی عائد کر دی،

سانحہ شکارپور میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے ،گرفتاری پر سندھ پولیس اور رینجرز کیلئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان ، دینی مدارس بارے وفاقی حکومت بھی قانون بنا رہی ہے ،سندھ حکومت بھی قانون سازی کر رہی ہے،سید قائم علی شاہ ، سندھ کو تین زونز میں تقسیم کرنے اور زونل کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا ،پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28فروری۔2015ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ شکارپور میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری پر سندھ پولیس اور رینجرز کے لیے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے پولیس افسروں اور اہل کاروں کو انفرادی طو رپر بھی انعام دینے کا اعلان کیا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کے لیے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پولیس افسران کو کم از کم ایک سال تک ان کے عہدوں سے نہیں ہٹایا جائے گا ۔

انہوں نے سانحہ شکارپور کا کیس فوجی عدالت میں بھی بھیجنے کا اعلان کیا ۔ یہ اعلانات انہوں نے ہفتہ کو چیف منسٹر ہاوٴس میں منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیے ۔ اس موقع پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خور احمد شاہ ، سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن ، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی بھی موجود تھے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دینی مدارس کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی قانون بنا رہی ہے اور سندھ حکومت بھی اس حوالے سے قانون سازی کر رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ سندھ کو تین زونز میں تقسیم کرنے اور زونل کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اس پر ایک پریزینٹیشن دی گئی تھی ۔

میں کسی تنازعہ میں نہیں جانا چاہتا ۔ رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہمارے اچھے روابط ہیں ۔ زونل کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ ہم طے کر لیں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیکرٹری محکمہ داخلہ سندھ عبدالکبیر قاضی کو معطل کرنے پر میں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ہلکا سا احتجاج کیا ہے کیونکہ انہیں کوئی شوکاز نوٹس دیئے بغیر معطل کیا گیا ہے ۔

میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ اس افسر کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ اہم عہدے پر تعینات ہے ۔ ان کے معاملے کی اچھی طرح انکوائری ہونی چاہئے اور انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ انہیں کس جرم میں یہ سزا دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انکوائری کرائیں گے ۔ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ 30 جنوری کو شکارپور میں ایک گھناوٴنا واقعہ رونما ہوا تھا ۔

دہشت گردوں نے امام بارگاہ پر حملہ کرکے 50 سے زائد افراد کو شہید اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا ۔ حکومت نے اس واقعہ کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں کیں اور زخمیوں کو سی 130 طیارے اور دیگر ذرائع سے بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ۔ میں خود بھی وہاں پہنچا تھا ۔ ہم نے شہداء کے لواحقین کو فی کس 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 2 لاکھ روپے بھی دیئے ۔

میں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ہدایت کی تھی کہ دہشت گردی کے اس واقعہ میں ملوث لوگوں کا فوراً پتہ چلایا جائے ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس واقعہ کے منصوبہ ساز ، سہولت کار اور واقعہ میں بالواسطہ یا براہ راست طور پر ملوث لوگوں کا پتہ چل گیا ہے ۔ شکارپور کی تحصیل خان پور کے ایک گوٹھ میں لشکر جھنگوی کے لوگوں کو پکڑا گیا ہے جبکہ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان سے جیش محمد کے لوگوں کو پکڑا گیا ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خود کش بمبار کو 15 دن تک تربیت دی جاتی رہی اور وہ امام بارگاہ کے ارد گرد حالات کا جائزہ لیتا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ، رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کی کوششوں سے دہشت گردوں کا سراغ مل گیا ہے ۔ میں ان سب کی کوششوں کو سراہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک سندھ سے باہر ہیں لیکن وہاں سے لوگ سندھ آ کر وارداتیں کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ سندھ میں غیر رجسٹرڈ مدارس کو بند کیا گیا ہے ۔ کچھ جماعتوں نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے لیکن قانون سب پر لاگو ہو گا ۔ پولیس اور رینجرز مدارس پر چھاپے بھی ماریں گی اور تلاشیاں بھی لیں گی ۔ ہم مدارس کے حوالے سے سندھ میں ایک قانون بھی بنا رہے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم پر اچھے افسروں کی تنزلی کی گئی ۔

اب سینئر گریڈ کے لیے تجربہ کار اور سینئر افسروں کی کمی ہے ، جہاں پولیس افسران کی اسامیاں خالی ہیں ، انہیں ایک دو روز میں پر کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی تنخواہیں پنجاب سے بھی زیادہ ہوں گی ۔ پہلے تنخواہوں میں اضافے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ، اس پر عمل درآمدکرنے میں کچھ وقت ضرور لگ گیا ہے لیکن پولیس والوں کو ایک ساتھ پیسے ملیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ فی الحال پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ دیگر محکموں میں بھی پابندی کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ۔

وقت اشاعت : 28/02/2015 - 18:38:21

اپنی رائے کا اظہار کریں