سانحہ شکار پور کی تحقیقات میں اہم پیش رفت،2 دہشت گرد گرفتارکر لئے،وزیر اعلیٰ سندھ ..
تازہ ترین : 1

سانحہ شکار پور کی تحقیقات میں اہم پیش رفت،2 دہشت گرد گرفتارکر لئے،وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ

کراچی (اردپوائنٹ۔تازہ ترین اخبار ۔28 فروری 2015)وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ شکار پور کے 2 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان ملزمان کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائیگا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشیدہ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سانحہ شکار پور کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ،پولیس اور رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ کامیاب کوششوں سے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دونوں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم ”جیش محمد“ سے ہے ،شکار پور میں امام بارگاہ کا خودکش بمبار کو بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے شکار پور لایا گیا جہاں خودکش بمبار نے خان پور میں غلام رسول نامی شخص کے گھر 20 روز قیام کیااور ٹریننگ حاصل کرتا رہا۔اس عرصہ کے دوران خود کش بمبارٹھیلے والا بن کر شکار پورامام بارگاہ کی ریکی کرتا رہا ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے کالعدم تنظیم کے متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سانحہ شکار پور میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور ان کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائیگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس اور انٹیلی جنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انٹیلی جنس کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،ان کی مشترکہ کوششوں سانحہ شکار پور کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ،وزیراعلیٰ نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو سراہا ہے اور ان کے لئے سندھ حکومت کی طرف سے50,50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ شکار پور میں سندھ حکومت نے سستی نہیں دکھائی ہے بلکہ جلد ازجلد ملزمان کو کٹہرے میں لایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ کوششوں سے جے یو آئی (ف) کے رہنما میاں سومرو کے قاتلوں کو گرفتار کیا ہے جس پر ان کی تعریف کرتا ہوں۔وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیس اہلکاروں اور افسروں کے تقرروتبادلوں پر3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے کہا ہے کہ پولیس افسر کم از کم ایک سال تک اپنے عہدے پر کام کریں گے ۔

عدالتی حکم پر اچھے افسران کی تنزلی کرنا پڑی جبکہ سیکرٹری داخلہ کی برطرفی پر وزیر اعظم سے احتجاج کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون سب سے اہم ہے ،سب پر لاگو ہے ہم سب کو قانون کا احترام کرنا چاہیے اور قانون کے دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی جہاں بھی اطلاع ہوگی چاہیے مسجد ،مدارس ،امام بار گا ہی کیوں نہ ہو بلاتفریق کارروائی کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مدارس سے متعلق قانون سازی کررہے ہیں ،مدارس میں چھاپوں پر مختلف تنظیموں نے احتجاج کیا ہے

وقت اشاعت : 28/02/2015 - 15:16:54

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں