جمعیت علماء پاکستان کی جانب سے لاؤڈاسپیکرایکٹ، مدارس پر بلاجوازچھاپوں اور علماء ..
تازہ ترین : 1

جمعیت علماء پاکستان کی جانب سے لاؤڈاسپیکرایکٹ، مدارس پر بلاجوازچھاپوں اور علماء کرام کی گرفتاریوں کے خلاف یوم احتجاج منایاگیا،

ملک کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے لوگوں کو ورلڈکپ کی طرف لگادیاگیا، حکمران دہشتگردوں کو چھوڑکرعلماء کرام، مساجد اور لاؤڈ اسپیکروں کے پیچھے پڑگئے۔کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے مقررین کا خطاب

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 27 فروی 2015ء)جمعیت علماء پاکستان کی جانب سے لاؤڈاسپیکرایکٹ، مدارس پر بلاجوازچھاپوں اور علماء کرام کی گرفتاریوں کے خلاف یوم احتجاج منایاگیا،اس سلسلے میں نمازجمعہ کے خطبات میں علماء وخطباء نے حکومتی اقدامات کے خلاف مذمتی قراردادیں منظورکرائیں، جبکہ مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔یوم احتجاج کے سلسلے میں مظاہروں اور اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی ناظم اعلیٰ علامہ السید عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی، مفتی نثاراحمدقادری، علامہ خلیل احمدنورانی، قاری رفیق چشتی، مولاناعبدالرحمٰن صابری، میاں منیراحمدسہروردی، مولاناگل حسن رضوی، علامہ عبدالغفاراویسی، مفتی محمدرفیع الرحمٰن نورانی، مفتی محمدبشیرالقادری نورانی، عبدالحفیظ کلوڑ، قاری غلام رسول چنہ، پروفیسرانواراحمدشیخ، مولاناعثمان غوری، مولاناشمیم احمدودیگر نے کہاکہ ملک کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے لوگوں کو ورلڈکپ کی طرف لگادیاگیاہے، حکمران دہشتگردوں کو چھوڑکرعلماء کرام، مساجد اور لاؤڈ اسپیکروں کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ملک اور ملک کے عوام کو انتہاپسندی سے بچانے کے لئے حکمران دہشتگردوں اوردہشتگردی کے مراکزکے خلاف مسلسل کارروائیاں کریں۔سانحہء پشاور کے بعد شکارپور،پشاور، اسلام آباداور مانسہرہ میں بھی تسلسل کے ساتھ دہشتگردی کے واقعات پیش آچکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران تاحال دہشتگردی کا سدباب کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں،اور اپنی ناکامی ونااہلی کو تسلیم کرنے کے بجائے پرامن علماء، مساجد اور مدارس کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکمران جان لیں صلٰوة وسلام پڑھنادینی شعائرمیں سے ہے لہٰذااس پر پابندی ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں ہوگی ، حکمران اس قسم کی پابندیاں لگاکر ملک کو سیکولربنانے کی کوشش کررہے ہیں، جس کی بھرپورمزاحمت اور احتجاج کیاجائے گا،مساجد میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی،مدارس پر بلاجوازچھاپے، صلٰوة وسلام پر پابندی سے عوام اور علماء میں بے چینی میں اضافہ ہواہے، حکمران دہشتگردوں پر قابوپاسکے ہیں نہ لوڈ شیڈنگ پراور نہ ہی بے روزگاری کاخاتمہ کرسکے ہیں، جس پر وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور مغربی ممالک کو خوش کرنے کے لئے علماء مساجداور مدارس پر سختی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یارسول اللہ ﷺ والوں نے یہ ملک بنایاتھااور اس ملک کو بچانے کا فرضہ بھی یہی انجام دے رہے ہیں،حکومت دہشتگردی پر قابوپانے کے لئے عملی کام کرے ،دہشتگردی میں ملوث یاان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو عبرت ناک سزادے لیکن ساتھ ہی نوجوان نسل میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دیں،ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور خوشحالی کے قیام کے لئے عملی اقدامات کرے۔غریبوں پر ناجائز ٹیکس ختم کرکے ملکی دولت لوٹ کر سوئس بینکوں میں مال جمع کرنے والوں کی دولت ملک میں واپس لائیں اور اس رقم سے نئی صنعتیں اور بجلی کے یونٹس لگائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 27/02/2015 - 22:22:24

اپنی رائے کا اظہار کریں