کراچی، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کی راہ میں حائل تجاوزات کو چار ماہ میں ہٹا دیا ..
تازہ ترین : 1

کراچی، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کی راہ میں حائل تجاوزات کو چار ماہ میں ہٹا دیا جائیگا، محمد سرفراز خان

کراچی(اردپوائنٹ۔تازہ ترین اخبار ۔25 فروری 2015) لیاری ایکسپریس وے کے بقیہ حصے 2.2 کلومیٹر کے راستے کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات کو 30 جون 2015 تک ہٹانے کے لئے عملی اقدامات تیز کئے جا رہے ہیں۔یہ فیصلہ محمد سرفراز خان پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پراجیکٹ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں ڈائریکٹر فنانس شارق الیاس، ڈائریکٹر لینڈ شاکر ، کنسلٹنٹ اور دیگر سینےئر افسران نے شرکت کی۔

روجیکٹ ڈائریکٹر نے افسران کو ہدایت دی کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیرتقریباً 4 سال سے التوا کا شکار ہے لہٰذا ایکپریس وے کی تعمیرمیں رکاوٹوں کو دور کرنے کی کارروائی کو تیز کرنے کے لئے بھرپور اقدامات فوری طور پر شروع کئے جائیں اور اس سلسلہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔واضح رہے کہ رکن قومی اسمبلی کمیٹی کے چیئرمین سفیان یوسف کی سربراہی میں 9 فروری 2015 کو ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ تجاوزات کو ہٹانے اور ان کو متبادل معیاری رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لئے 1870 ملین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت اس ضمن میں 200 ملین روپے کی رقم فراہم کر چکی ہے اور 500 ملین روپے جون 2015 تک فراہم کئے جاینگے ۔جبکہ بقیہ1170 ملین روپے مزید فراہمی کے لئے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں تمام تجاوزات ختم کرکے اور انکی رہائش کے سلسلے میں کام مکمل کر لیا جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ لوگوں کو فراہم کئے جانے والے پلاٹوں کے ٹرانسفر کے سلسلے میں حائل تعطل ختم کیا جائے اور الاٹیز سے اپیل کی ہے کہ وہ دفتر سے رابطہ کریں تاکہ الاٹیز کو مالکانہ حقوق کی منتقلی کے لئے کام کی رفتار کو تیز کیا جائے۔پلاٹ کے مالکان لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پراجیکٹ کے دفتر سے رجوع کرکے اپنے پلاٹوں کے مالکانہ حقوق کی تصدیق اور ٹرانسفر کرا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں خصوصی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/02/2015 - 17:04:43

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں